ویسٹ ٹو ویلیو منصوبہ سُتھرا پنجاب پروگرام کا اہم سنگِ میل، لکھوڈیر میں بائیو سی این جی پلانٹ سے پیداوار کا آغاز

20

لاہور، 9 مارچ (اے پی پی): صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ ویسٹ ٹو ویلیو منصوبہ سُتھرا پنجاب پروگرام کا ایک اہم مرحلہ ہے جس کے تحت جمع ہونے والے ہزاروں ٹن کچرے کو توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

وہ سول سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سُتھرا پنجاب پروگرام کے ویسٹ ٹو ویلیو فیز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ڈائریکٹر جنرل سُتھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین نے بھی شرکت کی۔

صوبائی وزیر بلدیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ لکھوڈیر لینڈفل سائٹ پر قائم پائلٹ بائیو سی این جی پلانٹ نے پیداوار شروع کر دی ہے۔ ابتدائی طور پر الائشوں سے یومیہ 85 کلوگرام سی این جی حاصل کی جا رہی ہے، تاہم حکام کا ہدف میتھین گیس کا ارتکاز 70 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد تک لے جانا ہے۔

ذیشان رفیق نے بتایا کہ پائلٹ منصوبے میں ایک ٹن الائشوں سے اعلیٰ معیار کی گیس پیدا کی گئی ہے اور یہ منصوبہ سیلف فنڈنگ سرکلر اکانومی سلوشن کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منصوبے کو مزید اپ گریڈ بنانے پر زور دیا ہے جبکہ ان کی سرپرستی میں ویسٹ سے توانائی کے دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں نے ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔

صوبائی وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ کوڑے کی مؤثر چھانٹی کی صلاحیت حاصل ہونے سے مزید فوائد ممکن ہوں گے کیونکہ نامیاتی اور غیر نامیاتی مواد کو الگ کرنے سے مطلوبہ اہداف کے حصول میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا اور امید ہے کہ سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں مزید بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔