پاکستان خواتین کے بااختیار بنانے کے اقدامات کر رہا ہے: سینٹر بشریٰ انجم بٹ

17

نیو یارک، 12 مارچ) اے پی پی): سینٹر بشریٰ انجم بٹ نے پاکستان کی پارلیمانی کوششوں کو اجاگر کیا جن کا مقصد خواتین کے عدالتی نظام تک رسائی میں اضافہ اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی پارلیمنٹس پر زور دیا کہ وہ قانونی اصلاحات کو مضبوط نگرانی، مناسب فنڈنگ، اور صنفی حساس اداروں کے ساتھ ساتھ نافذ کریں۔

70 ویں اجلاس برائے کمیشن برائے خواتین کی حیثیت (CSW) کے دوران منعقدہ انٹر پارلیمنٹری یونین (IPU) اور یو این ویمن پارلیمنٹری میٹنگ میں، سینٹر بشریٰ نے کہا کہ عدالتی رسائی صنفی مساوات کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیاں اب بھی عدالتی نظام میں نظامی رکاوٹوں(سٹرکچرل بیرئرز) کا سامنا کر رہی ہیں، جو امتیازی سماجی اصولوں، معاشی عدم مساوات اور ادارہ جاتی پابندیوں کے ذریعے مزید مستحکم ہوتی ہیں، اور یہ رکاوٹیں اکثر پسماندہ اور کمزور گروہوں پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔

عدالتی رسائی اور انٹرسیکشنل نقطہ نظر پر توجہ دیتے ہوئے، سینٹر بشریٰ نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے کردار کو اجاگر کیا جو خواتین کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں فعال رہی ہے۔ انہوں نے صنفی بنیاد پر تشدد اور امتیازی سلوک سے متعلق اہم قوانین کی نشاندہی کی، جن میں عزت کے نام پر جرائم، کام کی جگہ پر ہراسانی، خواتین مخالف اقدامات، اور جنسی تشدد کے قوانین شامل ہیں۔

انہوں نے قانونی اصلاحات کے ساتھ نافذ کیے گئے ادارہ جاتی اقدامات کی بھی وضاحت کرتے ہوۓ کہا کہ ملک بھر میں 480 جنسی یا صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ قانونی امداد کے نظام کو مضبوط بنایا گیا۔ جنسی تشدد کے خلاف کرائسز سینٹرز اور پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات متاثرہ اور زندہ بچ جانے والے افراد کی ضروریات کے مطابق حمایت فراہم کرنے اور بروقت انصاف یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

سینٹر بشریٰ نے زور دیا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مستقل ادارہ جاتی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹس کو عدالتی اداروں کی نگرانی مضبوط کرنی چاہیے، مناسب بجٹ کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے اور احتساب کو فروغ دینا چاہیے۔