لاہور،28اپریل(اے پی پی): صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ سے آسٹریلین ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے اہم ملاقات کی۔ٹموتھی کین اور رمیش سنگھ اروڑہ کے درمیان اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ اس موقع پر پولیٹیکل سیکرٹری جارڈن ہارٹاس بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقلیت دوست اقدامات پر بریفنگ دی۔آسٹریلین ہائی کمشنر نے رمیش سنگھ اروڑہ کی قیادت اور اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے ٹموتھی کین نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقلیتوں سے متعلق اقدامات کو سراہا اور پنجاب حکومت کے اقلیت دوست پروگرامز پر آسٹریلوی حکومت کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ آسٹریلین ہائی کمشنر نے مذہبی ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو عالمی سطح پر سراہا۔ صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اقلیتیں میرے سر کا تاج ہیں، اور اقلیتوں کو معاشی استحکام دینا اس حکومت کا نصب العین ہے، رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ بزنس انکیوبیشن سنٹرز کے ذریعے اقلیتی نوجوانوں کو معاشی مواقع کی فراہمی کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں جبکہ ای لرننگ پروگرام کے تحت 7000 سے زائد اقلیتی طلبہ کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت دی جا چکی ہے،اس سال پہلی بار 14 روز کے لئے سرکاری طور پر پورے پنجاب میں کرسمس کی تقریبات منائی گئی ہیں، رمیش سنگھ اروڑہ نے بتایا کہ کرتارپور راہداری اور سکھ یاتریوں کے لیے پاکستان کی مثالی مذہبی سہولیات کو ساری دنیا مانتی ہے،2020 میں کرتارپور میں مذہبی ہم آہنگی کو موجودہ سیکرٹری جنرل یو این نے سراہا تھا، کرسچن میرج ایکٹ میں اصلاحات کے لیے ہائی لیول کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں کرسچین بچیوں کی جبری شادیوں کے خاتمے اور جبری مذہب تبدیلی کو روکنے کے لئے یہ کمیٹی سفارشات دے گی، کرتارپور راہداری پاکستان کی جانب سے مسلسل کھلی ہے، رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کو ویزا فری رسائی، پاکستان کی مثالی مذہبی ہم آہنگی کانمونہ ہے، رواں سال وساکھی کے دوران 6 ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کی میزبانی، رہائش، سیکیورٹی اور سہولیات کا بہترین انتظام وزیراعلٰی پنجاب کی جانب سے کیا گیا ہے۔











