معاشی گورننس سے متعلق اہم اجلاس، ملک کے معاشی نظام کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی غور کیا گیا

13

اسلام آباد، 60 اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت معاشی گورننس سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے معاشی نظام کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ معاشی گورننس کو سادہ، شفاف اور بزنس فرینڈلی بنانا حکومت کی اولین قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس نظام کو اس انداز میں تشکیل دیا جا رہا ہے کہ وہ بڑی سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایسا نظام متعارف کرا رہی ہے جس سے ملک کی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں خصوصی مراعات دینے کی بھی سفارش کی۔

احسن اقبال نے برآمدات کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی سہاروں سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی ایکسپورٹس میں ہر سال کم از کم 5 بلین ڈالر کا اضافہ کرے۔

انہوں نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑا اثاثہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام آباد سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش مرکز بن سکتا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے اسلام آباد کو اولین ترجیحی مقام بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔