اسلام آباد، 23 اپریل (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر سے بچاؤ کے اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیرِ اعظم نے غیر معمولی موسمیاتی تغیر اور بالخصوص گلوف سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ سال واضح ہدایات کے باوجود سسٹم کی غیر فعالیت پر انکوائری کا حکم دے دیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی نااہلی اور کارکردگی میں کمی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کی سہولت، خدمت اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات تمام اداروں کا فرض العین ہے جس کی جواب دہی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام وفاقی متعلقہ ادارے صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون اور ہم آہنگی سے پالیسی کے نفاذ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کریں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پچھلے سال مون سون سیزن میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کی ممکنہ راستوں میں ناجائز تجاوزات تباہی کا باعث بنیں۔ اس سال اس مسئلہ کے حل کے لیے پیشگی مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے تمام ادارے استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے عوام کی سہولت کے لیے وسائل سے بڑھ کر کام کریں۔ پیشگی وارننگ سسٹم کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور فعالیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ ادارے صوبوں کے باہمی تعاون سے یکجا ہو کر موثر اقدامات دکھائیں۔
اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز سمیت دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔











