اسلام آباد، 2 اپریل (اے پی پی )وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور برطانیہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیٹیکل ایڈورڈ لیوی لین کی زیرِ قیادت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دوطرفہ تجارت کے فروغ اور خطے میں استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ڈیلیگیشن سطح کی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان–یو کے تجارتی ڈائیلاگ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ ہیلتھ کیئر اور لائف سائنسز کے شعبوں میں ورکنگ گروپ کے قیام کو سراہا گیا۔سیکریٹری کامرس جواد پال نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کی جانب پیش رفت کی تجویز پیش کی۔
وفاقی وزیر جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پالیسی میں مستقل مزاجی اور بتدریج اصلاحات طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تجارتی اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ساختی تبدیلیاں اور تجارتی اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر رہی ہیں۔
اس موقع پر ایڈورڈ لیوی لین نے کہا کہ پاکستان میں پالیسی کی شفافیت اور واضح سمت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ پاکستان–یو کے تجارتی ڈائیلاگ مستقبل میں مضبوط اقتصادی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
ملاقات میں پاکستانی باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت (GI) اور ٹریڈ مارک رجسٹریشن کے حوالے سے تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس سے برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔
دونوں ممالک نے آئی ٹی، زراعت، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیم اور مہارتوں کے شعبوں میں ورکنگ گروپس کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔اجلاس میں آبنائے آبنائے ہرمز کی عالمی تجارت میں اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ بڑھتی ہوئی شپنگ لاگت اور عالمی تجارتی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون جاری رکھنے اور پاکستان–برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔











