گلگت، 05 مئی (اے پی پی): نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے معرکہ حق کے حوالے سے منعقدہ پولو ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اس بامعنی موقع پر میں سب سے پہلے معرکہ حق کے اس پہلو کو اجاگر کرنا چاہوں گا جو ہماری قومی تاریخ میں جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم صمیم کی روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ معرکہ حق کی شاندار فتح اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی شکست کی یاد دلاتا ہے، جو نہ صرف ہماری تاریخ کا سنہرا باب ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے باعث فخر بھی ہے۔مئی 2025ء میں پیش آنے والے حالات میں، بھارت نے اپنی جارحانہ سوچ اور جنگی جنون کے تحت پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا آغاز کیا۔ لیکن الحمدللہ، پاکستان نے اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کا بھرپور دفاع کیا۔اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی دراندازی یا خودمختاری کو لاحق خطرات کے خلاف بھرپور مزاحمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔اسی تناظر میں’’ معرکہ حق ‘‘، جو آپریشن بنیان المرصوص (ایک مضبوط آہنی دیوار) کے تحت انجام دیا گیا، نہ صرف ایک کامیاب عسکری کارروائی ثابت ہوا بلکہ بھارت کے لیے ایک واضح اور مؤثر پیغام بھی ثابت ہوا۔ اس معرکے نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کی تنصیبات کے خلاف نہایت درست نشانہ بندی ممکن ہوئی۔مزید برآں، اس آپریشن نے قومی اداروں کے درمیان مثالی ہم آہنگی اور عوامی حمایت کو بھی نمایاں کیا، جو کسی بھی قومی کامیابی کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ اس کامیابی کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف بھارتی علاقائی بالادستی کو مؤثر انداز میں چیلنج کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی عسکری ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔خاص طور پر پاکستان فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے ساتھ فضائی مقابلوں میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی عالمی حیثیت میں نمایاں اضافہ کیا۔دوسری جانب، ’’معرکہ حق‘‘ نے قائداعظم کے اس مؤقف کو مزید تقویت دی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور اس نے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نئی توانائی فراہم کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معرکے کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔اس معرکے نے نہ صرف دشمن کو واضح اور دوٹوک پیغام دیا بلکہ پوری قوم کے حوصلے بھی بلند کیے۔ یہ کامیابی دراصل قومی اتحاد، یکجہتی اور افواجِ پاکستان کے ساتھ عوام کے مضبوط تعلق کا نتیجہ تھی۔پاکستانی قوم نے اس موقع پر جس اتحاد، اتفاق اور جذبہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو ہمیں ناقابلِ شکست بناتی ہے۔ہر سال 10 مئی کویومِ معرکہ حق منایا جاتا ہے تاکہ ہم اپنے عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں وہ شہداء جو ہمارے حقیقی ہیروز ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس وطن کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ گلگت بلتستان کے غیور اور محبِ وطن عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں۔افواجِ پاکستان کی بہادری، جرات اور عزم کی بدولت دشمن کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ معرکہ صرف ایک جنگ نہیں تھا بلکہ قومی وحدت کا امتحان تھااور ہم نے ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔آج کے دور میں معرکہ حق صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ یہ تعلیم، کردار، دیانت اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی جاری ہے۔ ہمیں اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہیں جو ہمیں ہر میدان میں حق کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک مضبوط اور باوقار قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔جب ہم اس تصور کو آج کے اس پولو میچ کے ساتھ جوڑتے ہیں تو ایک واضح مماثلت سامنے آتی ہے۔ پولو کا کھیل جرأت، تیزی، حکمت عملی اور ٹیم ورک کا حسین امتزاج ہے۔اس میدان میں کامیابی انہی کو ملتی ہے جو ایک دوسرے پر اعتماد کریں، ایک مقصد کیلئے متحد رہیں، اور ہر لمحہ بہترین کارکردگی دکھائیں۔











