اقوامِ متحدہ، 15 مئی ( اے پی پی): پاکستان نے شام میں بحالی اور سیاسی پیش رفت کے بڑھتے ہوئے آثار کا خیرمقدم کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی مسلسل شمولیت، انسانی ہمدردی کی امداد میں مالی خلا پُر کرنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون، اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے مکمل احترام پر زور دیا۔
شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اعتماد سازی اور شامی قیادت میں جاری سیاسی عمل کی حمایت کے لیے اقوامِ متحدہ کی مسلسل شمولیت نہایت اہم ہے۔ انہوں نے عبوری دور اور بحالی کے اس نازک مرحلے میں شامی حکومت کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے ملک کو خطے میں پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتحال کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سفیر عاصم نے اعتماد کی بحالی کے حوصلہ افزا اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے بے گھر شامیوں کی بڑھتی ہوئی واپسی کو امید افزا قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2024 کے اواخر سے اب تک اندرونِ ملک بے گھر افراد اور بیرونِ ملک پناہ گزینوں سمیت تیس لاکھ سے زائد شامی واپس لوٹ چکے ہیں، جو امید کی ایک روشن علامت ہے۔
انہوں نے احتساب اور عبوری انصاف کے شعبے میں مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جن میں قومی کمیشن کی جانب سے عبوری انصاف سے متعلق قانون کے مسودے پر کام شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضوں کے مطابق مفاہمت اور زخموں کے ازالے کی جانب پیش رفت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
سیاسی عمل کے حوالے سے سفیر عاصم نے کہا کہ شام کا عبوری مرحلہ بتدریج مگر اہم پیش رفت کا حامل ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ شمال مشرقی شام میں حالیہ پیش رفت جامع انداز میں آگے بڑھے گی، جس میں وسیع تر عبوری فریم ورک کے تحت عوامی اسمبلی کی تکمیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک معتبر، جامع اور شامی قیادت میں سیاسی منتقلی ہی طویل المدتی امن، استحکام اور اتحاد کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں اور دراندازیوں، بشمول علیحدگی کے علاقے میں مقامات پر قبضے، کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول اور عدم استحکام کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو قرارداد 338، قرارداد 497 اور 1974 کے معاہدۂ علیحدگی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے سے شام کی اقتصادی بحالی، تعمیرِ نو اور علاقائی و عالمی منڈیوں میں دوبارہ انضمام کے لیے اہم مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مواقع کے ثمرات شامی عوام تک ٹھوس اور دیرپا فوائد کی صورت میں پہنچنے چاہییں۔ انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے اقدامات، نیز یورپی کونسل کی جانب سے شام کے ساتھ تجارتی تعلقات کی مکمل بحالی کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام کی جاری انسانی ضروریات سے نمٹنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی رابطہ کاری ناگزیر ہے، اور عالمی برادری سے انسانی امداد میں موجود مالی خلا کو فوری طور پر پُر کرنے کی اپیل کی۔
اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے امن، استحکام اور خوشحالی کے نئے دور کی جانب پیش قدمی میں شامی حکومت اور عوام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔











