اقوام متحدہ، 10 جون (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری، ثالثی، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت نازک ہے اور خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی نے پائیدار امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات سے دو ریاستی حل کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے لبنان، شام اور یمن کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تنازعات کے حل کے لیے سیاسی عمل، جنگ بندی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا بنیادی محور ہے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، تقسیم کے بجائے مکالمے اور وقتی مفادات کے بجائے بین الاقوامی قانون کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ یہی دیرپا امن کا راستہ ہے۔











