اسلام آباد، 11جون(اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے قازقستان کے سفیر یرزہان کسٹافین نے ملاقات کی، جس میں صنعتی تعاون، اقتصادی ترقی، دوطرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان صنعتی و اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ قازقستان کے سفیر نے پاکستان کے فرنیچر، اسپورٹس گڈز اور سمندری بندرگاہوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں کو قازقستان میں منعقد ہونے والی نمائشوں اور ایکسپوز میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا وژن وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان بینکاری روابط کے فروغ کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بینک شاخوں کے قیام کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر اعلیٰ معیار اور شاندار فنشنگ کا حامل ہے جس کی عالمی منڈی میں نمایاں طلب موجود ہے۔
ملاقات میں سیاحت کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ قازقستان کے سفیر نے بتایا کہ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سہولت موجود ہے جبکہ کاروباری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا سہولت پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے پاکستانی سیاحوں کو مزید ویزا سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن اور سیاحتی مواقع سے مالا مال ملک ہے اور اس کے پہاڑ، صحرا اور دلکش مناظر عالمی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
قازقستان کے سفیر نے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، ترقیاتی کوششوں اور وژنری قیادت کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔











