مظفرآباد :کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان کی ممنوعہ اسلحہ کے ساتھ تصویر منظر عام پر، تشدد کا ایجنڈا بے نقاب

2

 

مظفرآباد،12 جون (اے پی پی): عوامی حقوق کے نام پر اشتعال انگیزی، بدامنی اور پرتشدد سرگرمیوں سے متعلق مؤقف سامنے آیا ہے۔ اسی حوالے سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ سرغنہ امان کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ممنوعہ اسلحہ کے ساتھ ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی تصاویر پہلے بھی منظر عام پر آ چکی ہیں، جو حالیہ واقعات کے پس پردہ منظم منصوبہ بندی کے تاثر کو مزید تقویت دیتی ہیں۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوامی حقوق کا مطالبہ محض ایک دکھاوا ہے جبکہ ان کا اصل مقصد شروع سے ہی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کو فروغ دینا تھا۔

ابتدا سے ہی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت، سردار امان اور دیگر نے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام کو تشدد پر اکسایا۔ انہی اشتعال انگیز بیانات اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے پرتشدد حملے کیے۔ماہرین کے مطابق یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ بھارتی پشت پناہی پر ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام پھیلانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں پرتشدد واقعات اور سرغنہ کی منظر عام پر آنے والی تصویر واضح کرتی ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد بدامنی اور تشدد کو فروغ دینا ہے۔ممنوعہ ہتھیاروں کے ساتھ تصاویر واضح کرتی ہیں کہ پرتشدد واقعات اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ ایک جامع اور منظم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی پھیلانے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔