آبی تحفظ پاکستان کا قانونی اور جائز حق ہے ، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پہلا عالمی سیمینار کل اسلام آباد میں منعقد ہوگا، عطاء اللہ تارڑ

0

اسلام آباد،  29 جون  (اے پی پی ): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے انتہائی اہم سٹریٹجک معاملہ ہے، اس حوالے سے پاکستان کے موقف کو نہ صرف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا بلکہ اس کی توثیق بھی کی گئی، آبی تحفظ پاکستان کا قانونی اور جائز حق ہے، بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے موقف کو نمایاں تقویت ملی ہے، سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے، اسے یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے، اس معاہدے کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی کے لئے اسلام آباد میں پہلا عالمی سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر سے آبی و قانونی ماہرین شرکت کریں گے۔

پیر کو یہاں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو نہ صرف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کی توثیق بھی کی گئی ہے کہ آبی تحفظ پاکستان کے لئے نہ صرف انتہائی اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کا قانونی اور جائز حق بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی نقطہ نظر سے بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو نمایاں تقویت ملی ہے کیونکہ اس معاہدے کو نہ یکطرفہ طور پر ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ترمیم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں واضح فریم ورک وضع ہے جو مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہر فورم پر واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے اور اس پر پاکستانی عوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی سے متعلق معاہدہ پاکستان اور بھارت نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا تھا جو آج بھی نافذ العمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر سے واٹر اور لیگل ایکسپرٹس شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی اور دریاؤں پر حاصل حقوق، ان کی قانونی حیثیت اور معاہدے کے مختلف پہلوؤں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سیمینار ہے اور بیرون ملک سے متعدد ماہرین اور مہمان پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ماہرین نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف اور حق کو تسلیم کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی شہر کے ماسٹر پلان میں گرین ایریا اور رہائشی ایریا مختص ہوتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں، اس حوالے سے نوٹسز بھی جاری کئے جاتے ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی حکومتیں بھی شجر کاری مہم پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید ترین اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور ان شاء اللہ شجرکاری کے فروغ کے لئے بھی مزید موثر اقدامات کئے جائیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی اس وقت پاکستان کے لئے انتہائی اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر بین الاقوامی فورم پر اپنا موقف موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہر عالمی فورم پر پاکستان کا مقدمہ پیش کیا جبکہ گرین فنانسنگ کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کرنے والے ممالک کو بھی آگاہ کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں جبکہ اس سے ہونے والے معاشی اور انسانی نقصانات بھی انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اپنے وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے بین الاقوامی امداد کی اپیل نہیں کی بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ متاثرہ افراد کی بحالی، امداد، دوبارہ آبادکاری اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تمام اقدامات اپنے وسائل سے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پاکستان کا ایک ذمہ دارانہ فیصلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ گرین فنانسنگ فنڈ کے حوالے سے دنیا کے متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر اس ضمن میں اپنی کمٹمنٹس بھی دے چکے ہیں تاہم پاکستان اپنی استعداد پر انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال میں بہتری کے باعث پاکستان اس قابل ہوا ہے کہ وہ ریلیف اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اقدامات اپنے وسائل سے انجام دے سکے۔