اسلام آباد،29 جون )اے پی پی): پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر ہونے والے حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں جن سے جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔
گرفتار دہشت گرد عثمان علی نے بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان کے علاقے جلال آباد سے ہے اور وہ اپنے تین ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق کے ساتھ پاکستان آیا تھا۔ اس کے مطابق ان کے ساتھی عبدالہادی کو حملے کے دوران مارا گیا، جبکہ جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا۔ عثمان نے کہا کہ وہ لوگ سات دن قبل پاکستان آئے تھے اور عبدالہادی جو باجوڑ کا رہائشی تھا کے پاس ٹھہرے تھے، انہیں ایک زیر تعمیر عمارت میں رکھا گیا تھا اور حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا جبکہ دوسری طرف جانے کے لیے بھاگتے ہوئے اسے گولی لگی اور وہیں گر گیا۔
عثمان نے اعتراف کیا کہ اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کا افغانستان میں کمانڈر احرار مولوی صاحب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی اور خود کش جیکٹ خود تیار کرتے تھے، اسے صرف جیکٹ دی گئی تھی جبکہ خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ افغانستان میں عمر قاری نے دی تھی۔ ان کے مطابق کراچی آنے سے پہلے افغانستان سے ہی تمام انتظامات ہو چکے تھے اور عبدالہادی پہلے بھی یہاں آ چکا تھا اس لیے اسے یہاں کے حالات کا علم تھا۔گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ شروع میں انہیں فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، لیکن یہاں آ کر انہیں رینجرز سے واقف کرایا گیا اور کہا گیا کہ یہ سب کافر ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ پاکستان اس سے قبل بھی متعدد بار افغان طالبان رجیم کو سرحد پار دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔











