امریکی قونصل جنرل, صدر لاہور چیمبرکا پاک امریکہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاکستانی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی تک رسائی میں سہولت دی جائے، فہیم الرحمٰن سہگل

6

لاہور، 15 جولائی:( اے پی پی )  امریکی قونصل جنرل لاہور اسٹیٹسن سینڈرز نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اقتصادی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے   ۔

ان خیالات  کا اظہار انہوں نے   لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر خطاب   کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور پاک امریکہ تعلقات میں ایک منفرد موقع کی حیثیت رکھتا ہے  ناظم الامور نیتھلی بیکر کے مطابق “یہ شاید ہماری تاریخ کے بہترین سفارتی تعلقات ہیں۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے تعاون کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اقتصادی ترقی اور عالمی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں پاکستان کی تقریباً 20 فیصد برآمدات جاتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ مضبوط تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون میں مزید اضافے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) پاکستان کی معیشت میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ای کامرس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کاروباروں کو بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً امریکہ تک بہتر رسائی دی جا سکتی ہے۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جدت کو فروغ ملے گا اور پائیدار اقتصادی ترقی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں داخلے کے لیے درکار بین الاقوامی معیار، سرٹیفکیشن اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے بارے میں مزید رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ٹیکسٹائل کے علاوہ آئی ٹی سروسز، زرعی مصنوعات، انجینئرنگ مصنوعات، سرجیکل آلات، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور ادویات ایسے شعبے ہیں جن میں برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹسن سینڈرز نے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت کاروباری افراد، نوجوان اور متحرک افرادی قوت اور جدت لانے والی کمپنیاں موجود ہیں جو چیلنجز کے باوجود ترقی کر رہی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ان خصوصیات کی بدولت پاکستان کے اندر اور دنیا بھر میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 8.7 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستانی ٹیکسٹائل اور تیار شدہ مصنوعات کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری، تجارتی شراکت داری اور ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور جدید صنعتوں میں تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے تحقیق و ترقی، تعلیم اور افرادی قوت کی تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر سے وابستہ کاروباری ادارے اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسٹیٹسن سینڈرز نے پاکستانی کاروباری اداروں کو لاہور میں امریکی کمرشل سروس سے رابطہ کرنے کی ترغیب بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ پاکستانی کمپنیوں کو امریکی شراکت داروں سے جوڑنے، ٹیکنالوجی کے تبادلے، مارکیٹ سے متعلق معلومات فراہم کرنے، تجارتی وفود کے تبادلے اور امریکی تجارتی نمائشوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاکہ پاکستانی کمپنیاں نئی شراکت داریاں قائم کر سکیں اور امریکہ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر سکیں۔

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے امریکی وفد کا خیرمقدم کیا۔

اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان ان کے ہمراہ سیاسی و اقتصادی شعبے کے سربراہ ول کیمبل بھی موجود تھے۔