اسلام آباد،30جولائی(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت جدید دور میں ترقی، معیشت اور اختراع کا بنیادی ستون بن چکی ہے اور پاکستان اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ AI کی ترقی شمولیت، اخلاقیات اور صنفی مساوات کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھے۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، یو این وومن پاکستان اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (KOICA) کے اشتراک سے “یو این وومن جینڈر ریسپانسو اے آئی اسکول پاکستان” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت خواتین اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل معیشت میں مساوی مواقع فراہم کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور ذمہ دارانہ AI گورننس کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بغیر کوئی بھی ملک جدید دور میں ترقی نہیں کر سکتا۔ حکومت ڈیجیٹل رابطوں، معلومات تک رسائی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف پروگراموں پر بھی عمل جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں کامیابی انہی افراد کو حاصل ہوگی جو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا جانتے ہوں گے۔
تقریب کے دوران “یو این وومن جینڈر ریسپانسو اے آئی اسکول پاکستان” کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں شمولیت پر مبنی، اخلاقی اور جینڈر ریسپانسو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے فروغ کے ساتھ پالیسی سازوں، حکومتی اداروں، پارلیمنٹیرینز، تعلیمی اداروں، اقوام متحدہ کے نظام، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹی رہنماؤں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر وزارتِ آئی ٹی اور یو این وومن پاکستان کے درمیان اے آئی اسکول کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این وومن پاکستان کے کنٹری ریپریزنٹیٹو جمشید ایم قاضی نے کہا کہ یہ اقدام ایشیا پیسیفک خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا قومی “ٹریننگ آف ٹرینرز” پروگرام ہے، جو حکومت، پارلیمان، عدلیہ، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں شمولیت پر مبنی، اخلاقی اور جینڈر ریسپانسو AI کے فروغ کے لیے قیادت، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
کوئیکا پاکستان آفس کی ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سوڈام بائیک نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئیکا پاکستان کے شمولیتی ڈیجیٹل مستقبل کی حمایت پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ سے ایسا اختراعی ماحول تشکیل پائے گا جہاں خواتین اور لڑکیاں مساوی طور پر ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔
تقریب کے دوران ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کے نتائج بھی پیش کیے گئے جن میں گورننس، پارلیمانی تحقیق، تعلیم اور کمیونٹی سطح پر AI کے عملی استعمال کی مثالیں پیش کی گئیں۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جو یو این وومن اے آئی اسکول کے مکمل قومی ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کی میزبانی کر رہا ہے، جبکہ یہ پروگرام پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔











