اسلام آباد، 18 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فارماسیوٹیکل سرمایہ کاری کانفرنس کے دوسرے روز تک پاکستان اور چین کے درمیان 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں جن میں 600 ملین ڈالر کے باقاعدہ معاہدے اور 250 ملین ڈالر کے ایم او یوز شامل ہیں۔
پاک چین بی ٹو بی فارما کانفرنس کے حوالے سے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں اب تک 16 معاہدے اور 80 مفاہمتی یادداشتیں طے پا چکی ہیں جبکہ چین سے 170 اور پاکستان سے 300 سے زائد وفود شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی فارما صنعت پر عالمی اعتماد کا اظہار اور معاشی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاہدوں میں 18 ہربل ادویات، ویکسین کی مقامی پیداوار، ادویات کے خام مال کی تیاری، میڈیکل ڈیوائسز، کلینیکل ٹرائلز اور فنی تربیت کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 13 ویکسینز اور ادویات کا 90 فیصد خام مال درآمد کرتا ہے، تاہم نئی سرمایہ کاری سے مقامی پیداوار کو فروغ ملے گا، درآمدی انحصار کم ہوگا اور ادویات کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی پہلی ویکسین پالیسی کابینہ سے منظور کرا لی ہے جبکہ 2030 تک ویکسین کی درآمدی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، اس لیے مقامی ویکسین سازی حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی 80 فیصد سے زائد خدمات ڈیجیٹلائز ہو چکی ہیں اور اب ادویات کا لائسنس آن لائن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے 20 دن کے اندر لائسنس ای میل کے ذریعے جاری کر دیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو فارما ریگولیشن کے شعبے میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، عالمی ادارہ صحت پاکستانی لیبارٹریز کو پری کوالیفائی کر چکا ہے اور پاکستان اس وقت 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2027 میں عالمی ادارہ صحت کے لیول تھری معائنے کی توقع ہے جس کے بعد مزید 100 ممالک میں ادویات کی برآمدات کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فارما سیکٹر میں ہونے والے معاہدے پاکستان کی کاروباری صلاحیت اور سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی صنعتوں کے پاکستان آنے سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوگی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارما سیکٹر میں تعاون ایک نئے دور کا آغاز ہے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔











