صدر آصف علی زرداری سے قازقستان کے سفیر یرزہان کِستافِن کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کا اعادہ

3

اسلام آباد، 20 اگست (اے پی پی): صدر مملکت آصف علی زرداری سے قازقستان کے سفیر یرزہان کِستافِن نے ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی رابطوں کو مزید تقویت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 اس موقع پر صدر مملکت نے قازق سفیر کی پانچ سالہ سفارتی مدت کے دوران پیش کی جانے والی خدمات اور پاکستان و قازقستان کے تعلقات کے استحکام میں ان کے متحرک کردار کی شدید تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سفیر یرزہان کِستافِن کی تعنیاتی کے دوران دونوں برادر ممالک کے باہمی تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔

ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے فروری 2026ء میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف کے تاریخی دورہِ پاکستان کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے روابط اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دورہِ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر مؤثر اور تیز رفتار عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی خیرسگالی کو عملی طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے میں تبدیل کیا جا سکے۔

صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے سڑک، ریلوے، فضائی اور بحری رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے قازق حکومت کی جانب سے پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ کی فراہمی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور گوجرانوالہ میں پہلے ‘قازقستان-پاکستان مصنوعی ذہانت مرکز’ کے قیام کے اقدام کا خیرمقدم بھی کیا۔

ملاقات کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے قازق صدر قاسم جومارت توکائیف کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا خصوصی پیغام پہنچایا۔

اس موقع پر قازقستان کے سفیر یرزہان کِستافِن نے بتایا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ براہِ راست ریلوے رابطہ قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں چھ سیکٹورل ورکنگ گروپس فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔

 انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ قازقستان پاکستانی پھلوں کے لیے ایک بڑی اور منافع بخش منڈی ثابت ہو سکتا ہے، نیز اس وقت قازقستان کی مختلف جامعات میں تقریباً ایک ہزار پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جو دونوں اقوام کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔