اسلام آباد، 20 اگست (اے پی پی): قومی اسمبلی نے جمعرات کو دفاعی کمانڈ اسٹرکچر اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو اہم بل کثرت رائے سے منظور کر لیے، جبکہ اپوزیشن نے بلوں کو ضمنی ایجنڈے کے ذریعے پیش کیے جانے پر احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ضمنی ایجنڈے کے ذریعے ڈیفنس فورسز آف پاکستان بل، 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2026 ایوان میں پیش کیے، جنہیں بحث اور ووٹنگ کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
قومی اسمبلی میں کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اہم نوعیت کی قانون سازی کو ضمنی ایجنڈے کے ذریعے لانے سے انہیںمناسب تیاری اور مشاورت کا موقع نہیں ملا، جس پر اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بلوں کو ایوان میں پیش کیے جانے کے طریقہ کار پر اعتراض کیا اور کہا کہ اتحادی جماعت سے اس معاملے پر پیشگی مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت ضمنی ایجنڈے کے ذریعے قانون سازی پیش کی جا سکتی ہے، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قانون سازی کے طریقہ کار واضح کیا۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں دونوں مسودہ قوانین کی منظوری دی تھی۔
ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ، 2026 کا مقصد 27ویں آئینی ترمیم کے بعد دفاعی کمانڈ کے نئے ڈھانچے سے متعلق قانونی و انتظامی امور کو منظم کرنا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور ہیڈکوارٹرز کے حوالے سے ضروری قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
اسی طرح نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کا مقصد بھی حالیہ آئینی و دفاعی کمانڈ اسٹرکچر میں ہونے والی تبدیلیوں کو قانون کے مطابق ڈھالنا ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ دن گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔











