لاہور، 18 اگست:( اے پی پی ) پاکستان کو اپنی نوجوان افرادی قوت کو عالمی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے افرادی قوت کی برآمد سے ہنرمند افرادی قوت کی برآمد کی طرف بڑھنا ہوگا ، ہماری پالیسی کا مقصد زیادہ نقل مکانی نہیں بلکہ بہتر نقل مکانی ہونا چاہیے، بیرون ملک مقیم پاکستانی صرف ترسیلاتِ زر میں اضافے کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی شراکت دار، سرمایہ کار اور ملک کے سفیر ہیں،پاکستانیوں کا بیرون ملک جانا پاکستان اور دنیا کے درمیان مضبوط معاشی پل بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں اپنے نوجوانوں کو ملک کے اندر جدید تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت ، مہارت اور محفوظ و قانونی ذرائع سے عالمی لیبر منڈیوں تک رسائی کی سہولیات مہیا کریں اور خود اپنے ملک میں بھی روزگار اور کاروبار کے بہترین مواقع مہیا کریں۔
ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی، جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور اے ایس فارن ایجوکیشن کنسلٹنٹس گروپ آف کمپنیز کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی سیمینار “پاکستان سے دنیا تک۔۔۔ کیسے؟ ترقی، مواقع اور خوشحالی” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز شریف تعلیم کے شعبہ سے لیکر فنی تربیت اور کاروبار تک نوجوانوں کو بھر پور مواقع مہیا کر رہی ہیں۔ تعلیمی میدان میں اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں ۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے اداروں کی تشکیل نو کی جا رہی ہے ۔ روزگار کے لیے بلاسود قرضے مہیا کیے جا رہے ہیں کسانوں کو زمین کے ساتھ کاشت کاری کے لیے وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی پیداوار میں اضافے کے ذریعے ملکی ضروریات کے ساتھ بیرون ملک ایکسپورٹ کو بھی یقینی بنایا جا سکے ۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آج دنیا میں ایک ملک سے دوسرے ملک سفر صرف ہجرت نہیں بلکہ عالمی افرادی قوت کی نقل و حرکت ہے، جس میں علم، ہنر، تجربہ، سرمایہ اور کاروباری روابط بھی منتقل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے اور نوجوان آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں صحت، انجینئرنگ، تعمیرات، آئی ٹی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا کہ کتنے پاکستانی بیرون ملک گئے بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے پاکستانی ہنر کے ساتھ، باعزت روزگار اور محفوظ طریقے سے عالمی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو مناسب تربیت، درست رہنمائی اور قانونی ذرائع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار صرف ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے پاس سرمایہ، عالمی منڈیوں کا تجربہ، جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت اور کاروباری روابط موجود ہیں، ہمیں ترسیلاتِ زر پر مبنی معیشت سے بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو ملکی معیشت سے جوڑنے کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ وہ پاکستان میں کاروبار، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نوجوانوں کی رہنمائی میں کردار ادا کریں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں Brain Drain کو Brain Circulation اور Brain Gain میں تبدیل کرنا ہوگا۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی اپنا علم، تجربہ، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔ ایک آئی ٹی ماہر نوجوانوں کی رہنمائی، ایک انجینئر اپنے تجربے سے فائدہ پہنچا اور ایک کاروباری شخصیت پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے۔ اس لیے جغرافیائی فاصلے کو معاشی فاصلے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت نوجوانوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ آئی ٹی، فری لانسنگ، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور سائبر سکیورٹی سمیت جدید شعبوں کی مہارتیں نوجوانوں کو عالمی معیشت سے جوڑ سکتی ہیں۔ آج ایک پاکستانی نوجوان پاکستان میں بیٹھ کر بھی دنیا کی کسی کمپنی کو خدمات فراہم کر سکتا ہے۔ ہمارا مقصد صرف دنیا میں نوکریاں تلاش کرنا نہیں بلکہ دنیا کے لیے خدمات اور جدید حل فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ معاشی اور سفارتی پیش رفت کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے مشکل حالات میں اپنے دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی سفارتی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ علاقائی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی نوجوان آبادی، انسانی وسائل، ٹیکنالوجی اور عالمی روابط کو معاشی قوت میں تبدیل کرے۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بغیر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے ریونیو میں اضافے پر توجہ دی ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وصولیوں میں رواں مالی سال کے دوران 38 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جبکہ ایکسائز و ٹیکسیشن کی وصولیوں میں بھی نمایاں گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹیکسز سے حاصل ہونے والے اضافی وسائل کو تعلیم، صحت، روزگار، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
سیمینار میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور کاروباری شخصیات، ماہرین تعلیم اور طلبہ نے شرکت کی۔ اے ایس گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین شاہد حفیظ نے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جبکہ تھامس ڈاؤز نے شرکا کو اے ایس گروپ آف کمپنیز کے تحت NAOERO پاسپورٹ پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بیرون ملک تعلیم ملازمت اور سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد کےلیے مواقع سے آگاہ کیا۔
ایڈیشنل فیڈرل سیکرٹری و سے ایس آفیسر سجاد احمد بھٹہ نے سیمنار میں جشن آزادی کی مناسبت سے اے آ ئی سے تیار کردہ قومی ترانے پیش کر کے شرکاء کے جذبہ حب الوطنی کو ابھارا ۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے سابق پرنسپل ڈاکٹر مجید چوہدری نے سیمینار سے اپنے خطاب نے میں کہا کہ موجودہ حالات میں ٹیکنو کریٹس سے رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ریاست کے نظام کو بہتر طور پر آگے بڑھایا جا سکے ۔ سابق وزیر تعلیم عمران مسعود نے سکولوں سے باہر بچوں کو پاکستان کا سب بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے تعلیم کے ساتھ عملی ہنر کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا ۔محفوظ اور ہنر مند انسانی سرمایہ ہی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مقررین نے پاکستانی طلبہ ماہرین اور ہنر مند افراد کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے محفوظ منتقلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کی بین الاقوامی ملک تعلیم اور فنی تربیت کے ساتھ وطن واپسی اور ملک میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور پاکستان میں اورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو سراہا
سیمینار کے اختتام پر میر خلیل الرحمٰن میموریل ٹرسٹ اور اے ایس گروپ آف کمپنیز کی جانب سے مقررین کو یادگاری سوینئرز اور اسناد تقسیم کی گئیں ۔ وزیر خزانہ نے میر خلیل الرحمان میموریل ٹرسٹ اور اے ایس گروپ آف کمپنیز کے نمائندگان میں اسناد تقسیم کیں اور انھیں اس قدر اہم موضوع پر کامیاب سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی











