لائیو اسٹاک اصلاحات کا جائزہ اجلاس، برآمدات بڑھانے کیلئے درآمدی مویشی فارم ہاؤسز میں تیار کرکے برآمد کرنے کی منظوری

0

اسلام آباد، 5 اکتوبر ( اے پی پی): وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے لائیو اسٹاک شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لیے درآمد شدہ مویشیوں کو خصوصی فارم ہاؤسز میں نشونما کر کے برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور نجی شعبے کے ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی بھی منظوری دی ہے۔

یہ فیصلے وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقدہ لائیو اسٹاک کے شعبے کی جاری اصلاحات پر اعلی سطح کے جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مویشیوں کی برآمد کے لیے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کیے جائیں جہاں اعلی نسل کے زیادہ پیداوار کے حامل مویشیوں کو درآمد کر کے برآمدات کے لیے نشونما دی جائے گی اور ان فارم ہاؤسز میں مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ مذکورہ فارمز میں پرورش پانے والے مویشی برآمد ہی کیے جائیں مویشیوں کی ٹیگنگ کا جدید نظام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے لائیو اسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اس کی کارپوریٹ طرز پر تنظیم نو اور اس مقصد کے لیے نجی ماہرین کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کا ساٹھ فیصد سے زائد حصہ لائیو اسٹاک پر مبنی ہے اور اس شعبے میں برآمدات کی بھرپور استعداد موجود ہے۔ انہوں نے ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتے میں مرتب کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں قائم مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کو یقینی بنایا جائے اور بین الاقوامی معیار کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو لازم قرار دیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کے لیے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے اور گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی ترقی کے لیے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کیا جائے۔ وزیر اعظم نے گوشت، لائیو اسٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کر کے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں تقریبا 245 ملین مویشی موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریبا 5.5 کھرب روپے بنتی ہے۔ لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ سالانہ تقریبا 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔ ملک کے تقریبا 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کا رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین برآمدی استعداد سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں گوشت کی برآمدات تقریبا 530 ملین ڈالر رہیں جن کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر سمیت خلیجی ممالک کو جاتا ہے جبکہ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حکومت لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے قومی پروگرام برائے حیوانی بیماریوں کی نگرانی، تحفظ اور ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کے قیام، ویکسینیشن اور بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفیکیشن کے نظام پر کام کر رہی ہے جبکہ فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین، ڈی بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے اور 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔