پشاور، 4اگست(اے پی پی): وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مزدوروں کے بچوں کے لئے 60 کروڑ روپے کے سکالرشپس موجود ہیں جن میں آج 5 کروڑ روپے کے سکالر شپ مزدوروں کے بچوں دے رہے ہیں۔
سول سیکٹریٹ پشاور میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سکالر شپ صرف رجسٹرڈ مزدوروں کو دے رہے ہیں لیکن صوبے میں مزدوروں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں حتی کہ بہت سے لوگ رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ حکومت کی مراعات سے محروم ہیں۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ معدنیات کے مزدوروں کو لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صوبے میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس 62 چھوٹے بڑے اسپتالوں اور 45 سکول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے خرچ کے لئے 71 لاکھ روپے مختص ہیں اور 2056 فلیٹس مزدورں کے تیار کئے جا رہے ہیں۔ اسطرح چائلڈ لیبر سروے
کے لئے 241ملین روپے رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ای ایس ایس ائی کے ساتھ 51 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں جبکہ 90 ہزار تک مزید لوگ رجسٹرڈ کرنے ہیں۔ محکمہ معدنیات کے ساتھ کوئلے کے کانوں میں مزدوروں کے لئے بات ہورہی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ ماضی میں لیبر ڈیپارٹمنٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے سکولوں میں غیر متعلقہ عملہ بھرتی کیا گیا اور اس غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اے پی پی / نصیب الہی وی این ایس











