پشاور، 07اگست (اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ پولیس فورس میں ضم شدہ لیویز اہلکاروں کی باقاعدہ ٹریننگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں ضم شدہ اضلاع کے 360 لیویز اہلکار تربیت حاصل کررہے ہیں۔ اُن کی دو ماہ تربیت کا عمل صوبے کی مختلف پولیس لائنزمیں جاری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے آج ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور کے دورہ کے موقع پر کیا جہاں انہوں نے 40 زیرتربیت لیویز جوانوں کی تربیت کے عمل کابذات خود معائنہ کیا۔
پولیس اہلکاروں کو کورونا سے بچاﺅ کی SOP کے تحت ماسک، سینیٹائزر اور چھ فٹ کے فاصلے پر رکھ کر تربیت دی جارہی ہے۔
اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں آئی جی پی نے کہا کہ پیشہ ورانہ تربیت جوانوں کے کیرئیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زیر تربیت لیویز جوانوں پر زور دیا کہ وہ درپیش چیلنجوں کے مطابق اپنے آپ کو تربیت سے آراستہ کریں اور زیادہ سے زیادہ سیکھ کر اُسے عملی پولیسنگ میں بروئے کار لائیں۔
آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ کا عمل ایک بہت بڑا چیلنج تھا تاہم دن رات کی سخت محنت اور کوششوں سے لیویز اور خاصہ داروں کے انضمام کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل کردیا گیا ہے اور ان کو وہ تمام مراعات اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنادیا گیا ہے، جو پہلے سے پولیس فورس کو حاصل ہیں۔
آئی جی پی نے کہا کہ لیویز اہلکاروں میں وہ تمام صلاحیتیں و استعداد بدرجہ اتم موجود ہیں جو کسی فورس کے جوانوں میں ہونی چاہئیں ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لیویز اہلکاروں کو بہترین تربیت فراہم کرکے انہیں ایک ماڈل پولیس فورس میں تبدیل کریں گے۔
آئی جی پی نے اس موقع پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تربیت کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع کو اب تک 60 گاڑیوں کے علاوہ جدید اسلحہ و ہتھیار بھی فراہم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح پولیس انفراسٹرکچر کے لیے حکومت نے ضروری فنڈز جاری کردیئے ہیں۔پولیس تھانوں کی تعمیر کے لیے زمین کی حصول کا کام مکمل ہو چکا ہے جس پر بہت جلد تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تھانوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنائیں گے۔
اے پی پی /صائمہ حیات/حامد











