اسلام آباد، 08ستمبر (اے پی پی): اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے منگل کو پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر علی علیزادہ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین پائیدار سفارتی تعلقات استوار ہیں،پاکستان آذربائیجان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔دونوں ممالک کے مابین نا صرف ثقافتی، مذہبی اور جغرافیائی مماثلت ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقومی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائم پاک – آذربائیجان پارلیمانی دوستی گروپ، پارلیمانی رابطوں میں اضافے کے لیے مناسب فورم ثابت ہو سکتا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین سے آرٹیکلز 370 اور 35الف کی غیر قانونی منسوخی ریاست کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی مذموم سازش ہے،ان آرٹیکلز کی منسوخی کے فیصلے کے بعد مظلوم کشمیری عوام پر ایک منظم کریک ڈاون کیا گیا، گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرے سے مقبوضہ وادی میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعہ کے حل چاہتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ چین،پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گا،سی پیک منصوبے کی تکمیل سے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں اضافے کے علاوہ معاشی اور ثقافتی تعلقات کو مستحکم بنانا چاہتا ہے، سی پیک کے آپریشنل ہونے اور بڑھتے ہوئے علاقائی رابطوں سے دونوں ممالک کو تمام شعبوں میں تعاون کے مواقع ملیں گے۔
آذربائیجان کے سفیر نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ ، برادارنہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجانی پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ ، برادارنہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ سفیر علی علیزادہ نے کہا کہ آذربائیجان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور کشمیر ی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔











