شکرگڑھ،19 اکتوبر(اے پی پی ): ضلعی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث شکرگڑھ کا قدیم مرکزی قبرستان خستہ حالی کا شکار ہے اور قبروں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔
قبرستان کی سطح سڑک سے 4 سے 3 فٹ نیچی ہے، جگہ جگہ بڑے بڑے کھڈے پڑ چکے ہیں، چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، بارشوں کے موسم میں کئی کئی دن کئی فٹ پانی کھڑا رہتا ہے جو کسی جوہڑ،تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔
ارد گرد کی آبادی والوں نے جگہ جگہ سے چار دیواری توڑ کر قبرستان میں سے غیر قانونی گُزر گاہیں بنا رکھی ہیں اور اکثر جگہوں پر لوگ دیوار چھوٹی ہونے کے باعث کوڑا بھی پھینک دیتے ہیں۔قبرستان میں جانور کھلے عام دھندناتے پھرتے ہیں اور انکی غلاظت سے قبروں کا تقدس پامال ہوتا ہے۔
قبرستان میں ناجائز تجاوزات کی بھر مار ہے، لوگوں نے ایک قبر کی بجائے 3.3 قبروں کی جگہ باقاعدہ چار دیواری اور لوہے کے جنگلوں سے مختص کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں قبرستان میں جگہ ختم ہوتی جارہی ہے۔
گورکھن ہے، نہ کوئی چوکیدار اور نہ ہی پختہ راستے ہیں، بارش کے دنوں میں کچے راستوں کے باعث میت لے جانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
لائٹنگ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے،رات کے وقت میت دفن کرنے کیلئے، اپنی مدد آپ کے تحت عارضی ایمرجنسی لائٹ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ قبرستان کے جناز گاہ کی چھت بھی خستہ حال اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔
معززین علاقہ نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ قبرستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ قبرستان کی کمیٹی اپنی مدد آپ کے تحت اسکی صفائی ستھرائی اور بہتری کیلئے اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لا کر بغیر کسی لالچ اور غرض کے دن رات کوشاں ہے۔











