بلوچستان عوامی پارٹی چاغی کا ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر سابق اسپیکر ایاز صادق کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

83

چاغی،یکم نومبر(اے پی پی):بلوچستان عوامی پارٹی چاغی نے ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر سابق اسپیکر ایاز صادق کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے بے بنیاد بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

 دالبندین پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی اے پی چاغی کے ضلعی صدر میر اسفندیار یارمحمدزئی، حاجی عبدالصمد سنجرانی، ملک مقصود سمالانی، ڈاکٹر حامد گل یوسفزئی، حیدر سنجرانی، حاجی ایاز شاہوزئی، کبیر خارکوئی، میر عبدالخالق سنجرانی ودیگر نے اسمبلی فلور پر ایاز صادق کے ریمارکس کو پوری قوم کی دل آزاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے جس میں شامل ہر جماعت نے گزشتہ ادوار میں پاکستان کو لوٹ کر معاشی طور پر کمزور کیا اور اب یہی لوگ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کو مزید کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن عوام اور پاک فوج کے شیر جوان اپنے خون سے اس ملک کی حفاظت تا قیامت کریں گے۔

 انہوں نے  کہا کہ  پی ڈی ایم نے نامناسب اور ناکام بیانیے کے سبب بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اپنی اصلیت ظاہر کردی ہے اسی لیے عوام نے ان کی تحریک کو مسترد کردیا۔

 انہوں نے فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے حرکات پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

انہوں  نے  کہا کہ  بلوچستان عوامی پارٹی صوبے بھر میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان  کی قیادت میں عوام کو تعلیم، صحت، آبنوشی سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاغی میں بی اے پی کے آرگنائزر میر اعجاز سنجرانی کی کوششوں سے ڈائیلاسز یونٹ و سردار سرفراز کالج کا قیام اور دالبندین سے نوکنڈی کو بجلی کی فراہمی سمیت دیگر بے شمار اجتماعی کام ہوئے جن کا ہر ایک معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کوششوں سے دالبندین تا زیارت بلانوش اور نوکنڈی تا ماشکیل روڈ، منرل یونیورسٹی اور متعدد ڈیمز کی منظوری تاریخی پروجیکٹس ہیں۔

 ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی ایم پی اے کا تعلق باپ سے ہے لیکن تنظیمی امور میں بظاہر انھیں دلچسپی نہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو کام ہم کرتے ہیں ان کا کریڈٹ لینا ہمارا حق ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی سے اگر عوام مطمئن ہوں گے تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔