پشاور،10نومبر(اے پی پی): ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122,ڈاکٹر خطیر احمد نے کہا کہ صوبے کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیو1122 میں مرد اہلکاروں کے ساتھ ساتھ خواتین ریسکیو اہلکاروں کو ترجیحی بنیاد پر میرٹ پر بھرتی کیا گیا اور ان کو مختلف ایمرجنسیز سے نمٹنے کے لیے پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی گئی تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران یہ اہلکار بلا تفریق خدمات فراہم کرکے عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خطیر احمد نے ریسکیو 1122 کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والی خواتین اہلکاروں کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 میں اس وقت 100 سے زائد خواتین اہلکار مختلف عہدوں پر فائزخدمات فراہم کررہی ہیں ۔
ڈاکٹر خطیر احمد نے کہا کہ ریسکیو 1122 میں شامل خواتین اہلکار ایمرجنسیز میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جنہیں ہر سطح پر سراہا جارہا ہے کیونکہ خواتین ریسکیو اہلکار ایمبولینس میں روزمرہ کی ایمرجنسیز کے ساتھ حاملہ خواتین کی ڈیلیوری کے متعدد واقعات میں زچہ و بچہ کو محفوظ اور موثر انداز میں خدمات فراہم کر چکی ہیں اور ریسکیو 1122 ایمبولینس میں بچے جنم لے چکے ہیں ۔
ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں مختلف ایمرجنسیز سے نمٹنے کے آلات موجود ہیں جن کی مدد سے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے ۔ آخر میں ڈاکٹر خطیر احمد ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 نے بہترین کار کردگی پیش کرنے والی پشاور، نوشہرہ اور صوابی سے تعلق رکھنے والی خواتین اہلکاروں میں توصیفی اسناد تقسیم کیں ۔











