مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے لاہور میں 839 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے؛  معاون خصوصی شہزاد اکبر

43

لاہور،16 اپریل  (اے پی پی): احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے دعوی کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے 839 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہے۔

انہوں نے جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جاتی عمرا میں شریف فیملی کا مکان اسی پر بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی اراضی کسی کے نام پر منتقل نہیں کی جاسکتی ہے، جن لوگوں کو اراضی منتقل کی گئی تھی ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے شریف خاندان کو فروخت کر دی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ مسلم لیگ ن شہر میں کنٹینرز دیکھ کر پریشان نہ ہو، مسماری کنٹینرز کے ذریعے نہیں بلڈوزر کے ساتھ کی جاتی ہے، جاتی امرا میں سرکاری زمین کا انتقال منسوخ کر دیا گیاہے۔

 مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ کل سے سنسنی پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے، میرا نام لے کر باتیں کی جا رہی ہیں،  عطا تارڑ آج کل بڑے لیڈر بنے پھرتے ہیں، میں ان کے فرمودات کا نشانہ رہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم چلا رہی ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جاتی امرا کا اصل نام موضع مانک ہے، پڑتال ہوئی تو پتا چلا پنجاب کی 800 کنال اراضی موضع مانک میں تھی، آج پنجاب حکومت کے پاس ایک مرلہ بھی نہیں، سرکاری اراضی کسی کے نام ٹرانسفر نہیں ہوسکتی، موضع مانک میں بہت سی زمین 1989 اور 1994 میں ٹرانسفر ہوئی، شریف خاندان نے وحیدہ بیگم سے زمین خریدی، حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں، یہ دونوں پرائیویٹ پارٹیز کے درمیان معاملہ ہے۔

معاون خصوصی شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ چور محلے سے نیلی بتی والی گاڑی گزرنے پر بھی پریشان ہو جاتا ہے، نیلی بتی کو دیکھ کر چور ڈر جاتا ہے یہ کنٹینرز دیکھ کر ڈر گئے، کنٹینرز سے دیواریں نہیں گرتیں، اس کیلئے بلڈوزر چلانا پڑتا ہے۔