پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ نےزرعی تحقیق کے لئے31 کروڑ روپے سے زائد8 منصوبہ جات کی  منظوری  دے   دی

14

لاہور،26 مئی  (اے پی پی ) وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے44 ویں پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈکے اجلاس  کی صدارت کی ۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی سمیت بورڈ ممبران نے  شرکت کی۔اجلاس میں زرعی تحقیق کے لئے31 کروڑ روپے سے زائد8 مختلف منصوبہ جات کی منظوری دی گئی-

اس موقع پروزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی منصوبہ جات کے ثمرات کاشتکاروں اور عوام تک پہنچنا ضروری ہیں زرعی منصوبہ جات مارکیٹ اور کمرشل پیمانے پر ڈیمانڈ کے مطابق ترتیب دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی ایسی اقسام کی دریافت پر توجہ دی جائے جو پورا سال عوام کی ضروریات کے مطابق سپلائی کی جا سکے زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ  کے ساتھ مل کرایسے زرعی منصوبہ کی کمرشل پیمانے پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جس سے عوام کی ڈیمانڈ پوری ہو اور قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو سکے،ایسے کولڈ سٹوریج بنانے کی ضرورت ہے جس سے سبزیات اور پھلوں کی شیلف لائف بڑھائی جا سکے۔

صوبائی وزیر زراعت نے  پیمرا اور سمیڈا کے باہمی تعاون سے ملٹی کورپ سٹرٹیجی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تمام پراجیکٹس کا فائدہ کاشتکاروں اور صارفین تک پہنچنا چاہیے  بورڈ کی مشاورت سے مجموعی طور پر 31 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے 8 زرعی منصوبہ جات کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ  ریسرچ کا مقصد” ریسرچ برائے ریسرچ” نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسی اقسام کی تیاری ہونا چاہیے جو تجارتی پیمانے پر کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور عوام کی ریلیف کا باعث بن سکیں۔

اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ مکئی کی ایسی اقسام کی تیاری کی جائے جو زیادہ سائیلج بنا سکیں۔ دھان کی ہائبرڈ اقسام کی تیاری کے دوران پہلے سے موجود زرعی ریسرچ کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا۔