پشاور،22 جون(اے پی پی): وزیرتعلیم خیبرپختونخوا شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ ڈراپ آؤٹ ریشو کو کم کرنے کیلئے اگست کے مہینے سے سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام شروع کیاجائیگا۔
صوبائی وزیرتعلیم شہرام خان ترکئی نے سیکنڈ شفٹ سکول کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ اولین ترجیح خیبرپختونخوا کے دورآفتادہ پہاڑی اضلاع کو دی جائیگی جہاں پر سکولوں کے درمیان فاصلے بہت زیادہ ہیں اور خصوصاً طالبات کو آمد ورفت کے مسائل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ڈراپ آؤٹ ریشو بڑھ رہاہے۔
شہرام ترکئی نے کہاکہ وہ سکول جہاں پر تعداد زیادہ ہے ان میں بھی سیکنڈشفٹ پروگرام کیاجائیگا، تاکہ تمام بچوں کو یکساں توجہ مل سکیں۔ان کا کہناتھا کہ سیکنڈشفٹ میں سکولوں کو اپ گریڈ کردیاجائیگا، پرائمری سکول کو سیکنڈ شفٹ میں مڈل، مڈل کو ہائی اور ہائی کو ہائیر سیکنڈری سکولوں میں اپ گریڈ کردیاجائیگا۔
سیکرٹری ایلمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن یحییٰ اخونزادہ، ڈائریکٹر ای۔ایس آر یو اشفاق احمد، ڈائریکٹرایجوکیشن حافظ محمد ابراہیم اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
شہرام خان ترکئی نے اس پروگرام کے لئے اساتذہ کی تعیناتی کے حوالے سے کہاکہ موجودہ اساتذہ کو بھی موقع دیاجائیگا تاکہ وہ سیکنڈشفٹ میں پڑھائے جبکہ مارکیٹ سے بھی میرٹ پر قابل اور ذہین اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ پرائمری سکول ٹیچر کو 12 ہزار، مڈل سکول ٹیچرزکو 15 ہزار، ہائی سکول ٹیچرز کو18 ہزار اور ہائرسیکنڈری سکول ٹیچرز کو 20 ہزار ماہانہ معاوضہ جبکہ کلیریکل سٹاف کو 7 ہزار روپے معاوضہ دیاجائیگا۔
انہوں نے کہاکہ اس پروگرام سے انرولمنٹ میں اضافہ ہوگا اور طلباء وطالبات کو اپنے ہی علاقے میں ہائی لیول کے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسرہوں گے جبکہ موجودہ سکولوں میں ہی یہ پروگرام شروع کیاجائیگا۔ کسی نئے انفراسٹرکچر کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
شہرام خان ترکئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام اضلاع کے ضلعی ایجوکیشن آفیسرز جلدازجلد سیکنڈشفٹ میں اپ گریڈ ہونے والے سکولوں کی تفصیلات کرائیٹریا اور رولز کے مطابق بھیج دیں۔
انہوں نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ ان اضلاع کی نشاندہی کریں جہاں پر ڈراپ آؤٹ شرح زیادہ ہوں۔ سکولوں کے درمیان فاصلے اور اساتذہ کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی جائے۔
شہرام خان ترکئی نے کہاکہ بچوں کو بنیادی و معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور ان تمام منصوبوں کا مقصد بچوں کو ان کی دہلیز پر مفت اورمعیاری تعلیم فراہم کرناہے جوکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ کیاگیاہے اور تعلیم ہی اس حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ #