اسلام آباد،14جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے سے نہ تو ہماری توجہ ہٹی ہے اور نہ ہٹے گی، کسی کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، حکومت، ایوان اور پوری پاکستانی قوم بزدلانہ حملے کی مذمت کرتی ہے۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال کے نکتہ اعتراض پر اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ آج صبح جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے یہ ایوان، حکومت اور پورا پاکستان اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے سے نہ تو ہماری توجہ ہٹی ہے اور نہ ہٹے گی۔ کسی کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ سے بات کریں گے کہ وہ اس بارے میں اور ملک کی مجموعی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک پروٹوکول کے خاتمے سے متعلق امور کا تعلق ہے تو اس کے لئے خطرے کے تجزیہ کے قوانین موجود ہیں، اس پر نظرثانی بھی کی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ میں بھی اس حوالے سے واضح طور پر بات کی ہے کہ جن لوگوں کو خطرات ہیں ان کے بارے میں متعلقہ ضابطوں پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس بے تحاشہ سکیورٹی ہے، ان میں سابق سرکاری ملازم بھی شامل ہیں جن کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں ہوتی ہیں، بعض سرکاری ملازمین ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس سابق صدور اور سابق ججوں سے بھی زیادہ سکیورٹی ہوتی ہے۔ یہ ایک شوشہ ہے، اسے پروٹوکول تو کہا جاسکتا ہے لیکن سکیورٹی نہیں کہا جاسکتا۔ وزیراعظم نے ایسے لوگوں سے سکیورٹی واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں 350 ڈرون حملے کئے گئے، ہم نے 2014ء میں نیٹو سپلائی کے سامنے دھرنے دیئے جس کے بعد ڈرون حملے رک گئے، ہمارے لیڈر کو کام کرنا آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کی طرف سے بات آئی تو ہم بھی جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بوٹی مافیا کا راج ہے۔ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہا ہے، سندھ کے شہری علاقوں میں پانی نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی کارروائی جاری تھی کہ اس دوران پیپلز پارٹی کے نواب یوسف تالپور نے کورم کی نشاندہی کردی۔ گنتی کرنے پر ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ نکلی جس پر ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ بعد ازاں جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے گنتی کرانے کا حکم دیا جس پر کورم پورا نہ نکلا۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردی۔











