مظفرآباد، 26 جولائی (اے پی پی): مظفرآباد 3 حلقہ ایل اے 29 سے پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار خواجہ فاروق کا اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا مقابلہ جن قوتوں کے ساتھ تھا مافیا تھا مسلم لیگ نون کی صورت میں جو 10 سال سے اس شہر پہ قابض تھا اور دوسرا ایک ٹھیکیدار امیدوار تھا جس نے اربوں روپے کا بجٹ کرپشن کے ذریعے کمایا تھا اور الیکشن میں کڑوڑوں روپیہ لگایا بھی، اسے ایک لاکھ میں ایک ووٹ پڑا، پہلی بار مظفرآباد میں ایسا سیاست میں ہوا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حلقہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے سے شدید متاثر ہوا تھا، مظفر آباد میں اس کے بعد کوئی قیادت ایسی نہیں آ سکی، 10 سال سے جو مسلم لیگ نون کا ایم این اے تھا اسے پروا ہی نیہں تھی، یہاں پر جو بڑے منصوبے تھے وہ سارے ڈراپ ہو گئے جن کے لئے فنڈنگ ساری دنیا کے ملکوں نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج فاروق حیدر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے بہت ڈویلپمنٹ کا کام کیا۔ میں اپنی الیکشن کمپین میں ہمیشہ ان سے سوال کرتا تھا کہ آپ کوئی ایک منصوبہ بتا دیں جو آپ نے یا آپ کے 10 سال سے قابض ایم این اے نے مظفر آباد کے لوگوں کو دیا۔
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ہمارا بیروزگاری کا تھا کیونکہ انہوں نے پی ایس سی کو غیر فعال کیا اور پھر حال ہی میں 4ہزار کے قریب تقرریاں، بغیر این ٹی ایس، انٹرویو کے کرکے اسمبلیوں کے ان کو مستقل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ انفرااسٹریکچر کا بھی ہے، یہاں ہم ٹورازم کو ڈویلپ کریں گے اور جو عمران خان کی اسکیم آئی ہے پانچ لاکھ روپیہ ود آوٹ انٹرسٹ وہ لوگوں کو دیں گے۔
یہ بیس کیمپ کی حکومت ہے۔ بیس کیمپ کی حکومت کشمیر کے حوالے سے کیا پیغام دیتی ہے، عمران خان کا پیغام بھارت کو ایک دفاعی پوزیشن پر لے آیا پوری دنیا کے فورمز پہ، یہ ہماری کامیابی ہے۔
یہاں پر جو لوگ قابض تھے ان کا جو لیڈر ہے، جو مفرور ہے وہ مودی کا یار تھا، جو نواسی کی شادی پر مودی کو بلاتا ہے اور تحفے پیش کرتا ہے۔ عمران خان کو آپ کریڈٹ دیں گے کہ جب پاکستان کے معیشیت دانوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ انڈیا سے تجارت کریں گے تو ڈالر ملیں گے مگر عمران خان نے ایک بات کہ کر انکار کر دیا کہ جب تک انڈیا کشمیر کی 5 اگست 2019 کی پوزیشن کو بحال نہیں کرتا، ہم تجارت نہیں کریں گے، ابھی تجارت کرنا کشمیریوں کے خون کے ساتھ غداری ہو گی۔











