چترال، 01ستمبر(اے پی پی):(گل حماد فاروقی)تمام سرکاری ملازمین کی نمائندہ لائنس آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس AGEGA لوئیر چترال کے زیر اہتمام ضلع لوئیر چترال کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سابق رکن صوبائی اسمبلی مولوی عبد الرحمان کررہے تھے۔اجلاس کا بنیادی مقصد چترال کا دو ضلعوں میں تقسیم ہونے کے حوالے سےتمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مشاورت کرنا تھا کیونکہ ضلع اپر چترال کے وجود میں آنے کے باوجود اس ضلعے کے بیشتر ملازمین اب بھی لوئیر چترال میں ملازمت کررہے ہیں جس کی بدولت لوئیر چترال کی ملازمین کی حق تلفی ہورہی ہے۔
اجلاس میں مقررین نے کہا کہ ضلع اپر چترال کے ملازمین کا لوئیر چترال میں تعیناتی کی وجہ سے 2030 تک بعض اداروں میں ترقی ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ان آسامیوں پر ضلع اپر چترال کے بھائی براجمان ہیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد بھی منظور ہوئی جس کے تحت 1973کے ریکروٹمنٹ اپوائنمنٹ،سنیارٹی اور پروموشن رولز کے Chapter-IIکے رولز 53 کے کے تحت ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ کیڈر کے ملازمین کو اپنے ہی ضلع میں اور اپر چترال میں جو ملازمین لوئیر سے تعنیات ہیں ان کو یہاں ٹرانسفر کیا جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ضلع اپر چترال سے مزید ملازمین لوئیر چترال میں نہ بھیجا جائے۔دو شاحہ ہونا یعنی Bifurcationکی تکمیل تک تمام محکمو ں میں ڈسٹرکٹ کیڈر میں ہونے والے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹیDPC کو بالخصوص محکمہ تعلیم میں ہونے یکم ستمبر کو DPC کوملتوی کیا جائے۔
سابق ڈپٹی کمشنر نوید احمد کے نوٹیفیکیشن کی رو سے ڈومیسائل میں ترمیم کا سلسلہ ختم کیا جائے۔محکمہ پولیس اور عدلیہ کے طرز پر ملازمین کے Bifurcation کو یقینی بنایا جائے۔قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ دونوں اضلاع کے سرکاری ملازمین کے Bifurcation کے سلسلے میں محکمہ تعلیم اور صحت کے تاخیری حربوں کی وجہ سے دونوں اضلاع کے ملازمین اور عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت چترال کی مثالی امن کو خراب کرسکتا ہے۔
قرارداد میں تمام محکموں کے سربراہان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلد اپر چترال سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ضلع اپر چترال میں ٹرانسفر کرے اور اپر چترال میں تعنیات لوئیر چترال کے ملازمین کو واپس یہاں بلایا جائے۔ ملازمین کے Bifurcation کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
اجلاس دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا جس میں کثیر تعداد میں ملازمین کے علاوہ محتلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے بھی شرکت کی











