ملتان، 04 ستمبر (اے پی پی ): ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے قیصر سلیم نے کہا ہے کہ ایم ڈی اے میں سب سے اہم ٹارگٹ ریونیو بڑھانا اور اس سلسلے میں نئے پراجیکٹ شروع کرنا ہے،ہم گھریلو اور کمرشل نقشہ جات پاس کرانے کا پراسس آسان اور قلیل مدتی کر دیا ہے،خالی پلاٹ پر گھریلو نقشہ چوبیس گھنٹوں میں پاس ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے پر شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کا ریونیو بڑھانے کے لئے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں اس لیے تمام بڑے ڈویلپر ز کو ون ونڈو پراسس کے ذریعے بر وقت سہولیات میسر کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے قیصر سلیم نے کہا کہ ون ونڈو کے زریعے ان لوگوں کو لوپ میں لے آئیں گے، ون ونڈو آپریشن کے لئے جدید تقاضوں کے مطابق کسٹمر کئیر سنٹر بنا رہے ہیں ،تمام تر پراسس وقت مقررہ پر ہوگا،ٹرانسفر کے لئے اوپن میرٹ پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے میں آئی ٹی سسٹم لانچ کیا جا رہا ہے،ایم ڈی اے میں ایچ آر کا مسئلہ حل کر رہے ہیں،تمام ڈائریکٹوریٹ کے آرگینوگرام نئے بنائے جا رہے ہیں اور ایچ آر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ نئی پوسٹوں پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کرنے کے لئے آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں ایجنڈا پیش کیا جائے گا جس کی حتمی منظوری گورنمنٹ سے لی جائے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ شہر میں بے ہنگم کمرشل تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے سروے کیا جا رہا ہے جو بہت جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس سروے کو تھرڈ پارٹی انسپکشن کروائیں گی۔تمام عمارتوں کی جی بی میپنگ کرائیں گے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ بر وقت سہولیات کی فراہمی کے لئے ای خدمت سنٹر پر عملہ تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ لیگل پراسس کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے۔
ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے نے کہا کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ایم ڈی اے میں نئے ڈائیریکٹوریٹ قائم کر رہے ہیں، تمام لیگل کیسز کا ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے آئندہ کسی بھی لیگل ایڈوائزر کے کنٹریکٹ میں توسیع اسکی کارکردگی سے مشروط کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بہتر سے بہتر طریقے اپنائے جا رہے ہیں،شہریوں کو ایم ڈی اے میں سہولیات ملنے پر خود بخود عوام کا اعتماد بحال ہو جائے گا، شہریوں کا اعتماد بحال ہونے پر محکمہ میں تیزی آنا شروع ہو جائے گی۔











