اسلام آباد،23ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام اور ان سے بچائو کے لئے احتیاط اور پرہیز بھی لازم ہے، اس حوالے سے طب کے شعبے سے وابستہ افراد کو ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو بیماریوں سے بچنے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے سے صحت عامہ میں بہتری کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں، پاکستان میں بریسٹ کینسر سے اموات کی بڑی وجہ مرض کی دیر سے تشخیص ہونا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں گیارہویں سالانہ پبلک ہیلتھ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے صحت عامہ کی بہتری کے لئے علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ امراض سے بچائو کے لئے لوگوں میں احتیاط اور پرہیز جیسے رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمارا نظام بیماریوں کے علاج کے لئے ڈاکٹرز تیار کرتا ہے جبکہ علاج کے علاوہ بیماری سے بچائو کے لئے پیشگی احتیاط کی بھی بڑی اہمیت ہے، اس حوالے سے طب کے شعبے سے وابستہ افراد کو ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کو اپنا کر بیماریوں سے بڑی حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے، ہمارا مذہب اسلام پاکیزگی اور طہارت اپنانے کی تلقین کرتا ہے جو صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائیٹس جیسے امراض پر قابو پانے کے لیے سنگل یوز سرنج کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ طب کے شعبے نے بہت ترقی کی ہے اور بڑی بڑی بیماریوں پر قابو پانے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ساتھ ساتھ نئی بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں جن سے بچنے کے لئے لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ، نومولود بچوں کو لازمی ماں کا دودھ پلانے اور خواتین میں چھاتی کے کینسر جیسے صحت کے موضوعات پر عام بات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اس بارے میں آگاہی کا فقدان ہے اور اس سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس جانب بھی مناسب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے معاشرے پر اثرات نظر آنے چاہئیں۔











