چین پاکستان کے ساتھ زراعت کے شعبے میں تعاون کر رہا ہے؛ وفاقی وزیر اسد عمر

13

اسلام آباد،23ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذیادہ تر آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، اس شعبے میں چین پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کوسی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی کے دسویں  اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی چیلنجوں  کے باوجود پاکستان اور چین کی قیادت سی پیک کے اہم منصوبے کو جاری رکھے ہوئے ہے، سی پیک کے جنوبی زون سے پاکستان میں  وسیع غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی، سی پیک کے پہلے مرحلے کی تکمیل دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مظہر ہے۔اسد عمر  نے کہاکہ  سی پیک کے تحت بلوچستان میں بہت سے منصوبے جاری ہیں، سی پیک کے تحت ایم ایل ون  ریلویز کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے اسی طرح  سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے حوالہ سے بہت سی توقعات ہیں  ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک  کے تحت مختلف منصوبوں  پرکام کرنیوالے چینی ورکرز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، پاکستان میں کام کرنے والے چینی ورکرز کو بہترین سکیورٹی مہیا کی گئی ہے، سی پیک منصوبوں کے ثمرات فوری عوام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری   کے آپریشنل مسائل کو ہموار کرنے کے لیے ایک اعلی سطح کی  پاک چین تعلقات سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ   سی پیک کا دوسرے  مرحلہ میں صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پرکام تیزی سے جاری ہے ،   سی پیک اتھارٹی میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے  سہولت مرکز قائم  کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے  ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چینی پاور پروڈیوسرز  کو واجبات کی ادائیگی  کیلئے راہیں ہموار کی جاسکے،حکومت اس حوالے سے سخت فیصلے کرنے جا رہی ہے اور   چینی آئی پی پیز کے نمائندوں کو یقین دلاتے ہیں  کہ  اس معاملے کو جلد حل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ  سی پیک  قومی اہمیت کا منصوبہ ہے ۔