پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بننے کے سفر پر گامزن ہے، حکومت نے معاشرے کے کمزور طبقات اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کیلئے پروگرام متعارف کرائے؛ وزیراعظم عمران خان

12

اسلام آباد۔24ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بننے کے سفر پر گامزن ہے، حکومت نے معاشرے کے کمزور طبقات  اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کیلئے پروگرام متعارف کرائے، ہم چوری کرنے والوں کے احتساب کی بات کرتے ہیں اس لئے مخالفین  ہمارے خلاف شور مچا رہے ہیں، ہمیں آزاد عدلیہ اور میڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں ، ماضی میں کسی حکومت نے میڈیا کو تنقید کی ایسی آزادی نہیں دی، پراپیگنڈا کے ذریعے وزیراعظم کی توہین کی گئی اور بہتان لگائے گئے،  میڈیا میں 70 فیصد پروگرام اور خبریں ہمارے خلاف ہوتی ہیں، نوجوان نئے آئیڈیاز لے کر آئیں حکومت پوری طرح سپورٹ کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ڈیجیٹل میڈیا ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کیلئے ڈیجیٹل میڈیا انٹرن شپ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس پروگرام کا آغاز خوش آئند ہے، نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، انہیں چاہئے کہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح معنوں میں ادراک کریں اور خود کو کبھی کم تر نہ سمجھیں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ انہوں کرکٹ میں بہت مشکلات کا سامنا کیا لیکن کبھی ہار نہیں مانی اور کوشش جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، بڑے خواب دیکھنے اور اس کیلئے محنت کرنے والے ہی بڑے انسان بنتے ہیں جو کبھی مشکلات میں گھبراتے نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ڈیجیٹل کی طرف جارہی ہے آنے والا دور ڈیجیٹل ہے، نوجوان  اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے بڑے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں رہیں اور اپنی سوچ کو بلند رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو صرف اپنے لئے سوچتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے ملک کو انسانوں کیلئے سوچتے ہیں۔ دنیا انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو انسانوں کیلئے کچھ کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے اینٹرن شپ حاصل کرنے والے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے وژن اور مقاصد کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسا ملک بنانا تھا جو مثالی اسلامی ریاست بنے، اسلامی ریاست خوددار ہوتی ہے کسی کے آگے جھکتی نہیں ہے، ہمیں ایک خوددار قوم بننا ہے، اسلامی ریاست کی دوسری خصوصیت انسانیت کا احساس ہوتی ہے، ہماری حکومت نے اسی احساس کے تحت احساس پروگرام شروع کیا کیونکہ جس معاشرے میں انسانوں کا احساس نہیں ہوتا وہ انسانوں کا نہیں جانوروں کا معاشرہ ہوتا ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہر خاندان کو ہم نے ہیلتھ انشورنس فراہم کی ہے جس کے تحت ہر گھرانہ کسی بھی ہسپتال سے دس لاکھ روپے تک کا مفت علاج کروا سکتا ہے۔ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے سفر پر گامزن ہیں اور کمزور طبقات کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں، ہم نے معاشرہ کے کمزور طبقات کیلئے جو پروگرام شروع کئے ایسے پروگرام امریکہ جیسے ملک میں بھی نہیں ہیں، پاکستان میں غریب لوگ بیماری کی صورت میں اپنا علاج نہیں کروا سکتے تھے اور ان کے گھر تک بک جاتے تھے، ہماری حکومت نے راتیں سڑکوں پر بسر کرنے والے بے گھروں کیلئے پناہ گاہیں قائم کیں اور ان کیلئے کھانا مہیا کیا، حکومت عام آدمی کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کر رہی ہے جو فلاحی کام ہم نے شروع کیے یہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو جانے چاہئے تھے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ کوئی معاشرہ انصاف کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، اسلامی ریاست میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہ ”بنانا ریپبلک” ہوتی ہے، ہماری حکومت میں میرٹ کا نظام ہے اور سرکاری عہدے کسی خاندان کے افراد کیلئے نہیں ہیں، ہم طاقتور کو قانون کے ماتحت لانے کی بات کرتے ہیں، ہماری حکومت سے مخالفین کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چوری کرنے والوں کے احتساب کی بات کرتے ہیں اس لئے وہ باہر بیٹھ کر شور مچا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلے صرف کمزوروں کو پکڑا جاتا تھا اور طاقتور لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تھی، مخالفین این آر اور مانگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں نہ پکڑا جائے۔

وزیراعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سچ پر قائم رہیں اور حقائق بیان کریں کیونکہ جھوٹ بولنے والے کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحافت میں کریڈیبلٹی کی بہت اہمیت ہے، فیک نیوز دینے والوں کی عزت نہیں رہتی، تنقید ہمیشہ سچ کی بنیاد پر ہونی چاہئے، ہمیں آزاد عدلیہ اور میڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہماری حکومت نہ قانون توڑتی ہے اور نہ کرپشن کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ میڈیا کو جتنی آزادی موجودہ حکومت کے دور میں حاصل ہے ماضی میں کسی حکومت نے میڈیا کو اتنی آزادی نہیں دی۔ تین سالوں کے دوران 70 فیصد پروگرام اور خبریں ہمارے خلاف دی گئیں، جتنے بہتان مجھ پر اور میرے وزراء پر لگائے گئے دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی نامزدگی کے حوالے سے تین اخبارات میں صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انگلینڈ میں کوئی اخبار اس طرح کی خبریں دیتا تو میں اس کے خلاف ملین ڈالرز کا مقدمہ جیت کر شوکت خاتم کو عطیہ کردیتا، پراپیگینڈا کے ذریعے وزیراعظم کی توہین کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا کو ایسی آزادی دی جو اس سے پہلے انہیں کبھی حاصل نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سٹیٹ میڈیا کو ماضی میں پراپیگینڈا کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور حکمران ذرائع ابلاغ کو رشوت کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سچ کو پروموٹ کریں اور ریاست کے مقاصد اور وژن کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ  ڈیجیٹل میڈیا میں نوجونوں کے لئے بڑے مواقع ہیں وہ نئے آئیڈیاز کے ساتھ آگے آئیں حکومت انہیں پوری طرح سپورٹ کریں۔

واضح رہے کہ  ڈیجیٹل میڈیا ڈیویلپمنٹ پروگرام وزیر اعظم کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل میڈیا پر موثر موقف پیش کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس پروگرام کے تحت اہل نوجوان 3 مہینوں پر مشتمل معروف سوشل میڈیا کمپنیوں بشمول فیس بک، گوگل، یوٹیوب اور ٹویٹر کے ماہرین سے ٹریننگ حاصل کریں گے۔پاکستانی انڈسٹری کے نامور ماہرین بھی مختلف ورکشاپس کے ذریعے ٹرینگ دیں گے۔ٹرینگ کے دوران انہیں حکومتی اداروں میں حکومتی نظم و نسق کی بھی آگاہی دی جائے گی ۔ٹریننگ کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام نوجوانوں میں سرٹیفیکٹس بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) ان نوجوانوں کو انٹرنشپ کے دوران معاوضہ بھی ادا کرے گا۔