امن و امان قائم کرنے اور فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس کی قربانیوں کی داستان

36

اسلام آباد، 03 نومبر(اے پی پی ): امن و امان قائم کرنے اور فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس کی قربانیوں کی داستان، پنجاب پولیس نے فرائض کی انجام دہی کے دوران پرتشدد مظاہروں اور واقعات کا سامنا کیا۔

ٹی ایل پی نے اپنے قیام سے لیکر اب تک وفاقی دارالحکومت کی طرف 6 پرتشدد مارچ کیے۔حالیہ پر تشدد واقعات میں 6 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ کم و بیش ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ٹی ایل پی کے حالیہ احتجاج کے دوران 22 اکتوبر کو لاہور پولیس کے 2 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ ان میں ہیڈ کانسٹیبل ایوب اور کانسٹیبل خالد جاوید شامل ہیں۔ ایک ہی روز میں 15زخمی کانسٹیبلز کو سروسز ہسپتال، 16کو میو ہسپتال ،7کو میاں منشی ہسپتال میں لایا گیا۔فاروق ہسپتال ،نواز شریف ہسپتال اور کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں ایک ایک جبکہ 3 کو گنگا رام ہسپتال میں لایا گیا۔

 مظاہروں میں کانسٹیبل محمد افضل کو شاہدرہ چوک جبکہ کانسٹبیل محمد عمران کو کرول گھاٹی محمود بوٹی کے قریب شہید کیا گیا۔ اے ایس آئی محمد اکبر عمر سادھوکی میں تصادم کے دوران زخمی ہوا اور یکم نومبر کوخالق حقیقی سے جا ملا۔پولیس کانسٹیبل عدنان احسان کو گوجرانوالہ کے قریب ٹی ایل پی کے مظاہرین نے بدترین زدو کوب کیا اور قریبی کھیتوں میں پھینک دیا۔

ان واقعات میں کل 309 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں ڈی ایس پی نوید، انسپکٹر مسعود، ایس ایچ او کاہنہ، ایس ایچ اوگوالمنڈی شامل تھے۔

پولیس شہدا کے غم زدہ خاندانوں کی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو فوٹیج نے قوم کو صدمہ سے دوچار کردیا۔شہداءکے بچے پولیس حکام سے یہ سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کیا وہ ان کے بابا کو واپس لاسکتے ہیں۔

جھنگ پولیس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لاہور پولیس کے اے ایس آئی محمد اکبر عمر کے جنازے کی ویڈیو شیئر کی۔کانسٹیبل غلام رسول کی والدہ ایک ویڈیو فوٹیج میں نہایت غمزدہ حالت میں یہ کہہ رہی ہیں کہ ماﺅں کیلئے ان کے بچوں کی موت ان کی اپنی زندگی کھو دینے کے مترادف ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو حضرت محمد ﷺ سے بے پناہ محبت تھی اس نے اسلام اور ملک کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی۔غلام رسول کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بھائی کی شہادت پر فخر ہے کہ وہ سچے عاشق رسولﷺ اور پانچ وقت کے نمازی تھے۔

اگرچہ سینئر پولیس انتظامیہ سوگوار خاندانوں کو ہر قسم کی سہولیات اور تعاون فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے تاہم لواحقین بالخصوص شہدا کے بچوں کو ایک طویل صبر آزما سفر درپیش رہے گا۔حکام کی طرف سے تمام تر ہمدردیوں اور معاونت کے باوجود انہیں اپنے پیاروں کی کمی تا عمر محسوس ہوتی رہے گی۔