2023 کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کے لئے قانون سازی کرلی ہے ،  الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔وفاقی وزیرسینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

12

اسلام آباد۔18نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ 2023 کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کے لیے قانون سازی کرلی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیدیا ہے،  الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے، انتخابی اصلاحات ترمیمی بل کی منظوری سے پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی، آئندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے، وزیراعظم عمران خان صاف اور شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف اور قابل اعتبار ہوں جنہیں سب تسلیم کریں۔ وہ جمعرات کو یہاں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمیشہ انتخابات متنازعہ رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر نے اپوزیشن سے کہا کہ حکومت سے تعاون کرے، ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور قابل اعتبار الیکشن کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کی گئی جسے ہیک نہیں کیا جاسکتا، انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے جمہوریت کو فائدہ ہوگا۔ سید شبلی فراز نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے معیاری الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کی ہے جوالیکشن کمیشن کے معیار کے مطابق بنائی گئی ہے، حکومت کی خواہش ہے کہ انتخابات کو قابل اعتبار بنایا جائے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان صاف اور شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ملک کی انتخابی تاریخ بدل جائے گی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا، الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ تنازعات کا شکار رہے ہیں، اپوزیشن بغیر کسی وجہ کے ای وی ایم کی مخالفت نہ کرے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرنے کا واحد مقصد انتخابی عمل میں شفافیت لانا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے الیکشن شفاف اور قابل اعتبار ہوں گے، عام انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے، ہمارے پاس پیپر ٹریل کا سسٹم بھی موجود ہوگا اور الیکٹرانک سسٹم بھی کام کرے گا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو ہیک نہیں کیا جاسکتا، اس سے  نتیجہ جلد ملے گا، انتخابات کے لئے ایک سال میں ایک ملین  الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو تیار کیا جاسکتا ہے، الیکشن کمیشن  ووٹرز کی آگاہی کے لئے مہم شروع کرے اور عملے کی تربیت کی جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین موثر، آزاد اور قابل اعتماد انتخابات کی طرف ایک قدم ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ انتخابی عمل کو مزید قابل اعتماد بنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دے۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ماضی میں ملک میں سیاسی عدم استحکام اور تنائو کی کیفیت رہی، پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگایا، وزیراعظم عمران خان نے یہ واضح کیا کہ اگر ملک مین جمہوریت، سیاسی اور معاشی استحکام لانا ہے تو ہمیں اپنے جمہوری عمل کو درست کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک نڈر، بے باک اور ملک کی بہتری کیلئے فیصلہ کرنے والی شخصیت ہیں، ملک میں انتخابی قانون میں آخری تبدیلیوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا اس لئے ٹیکنالوجی کو راستہ دیا ہے، سیاسی خلفشار کا خاتمہ کرنے کیلئے ای وی ایم بنائی، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور چیمبر آف کامرس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں میں بھی اس کا ڈیمو دیا گیا، ہم نے الیکٹرانک ووٹنگ کا آئیڈیا پیش کر دیا ہے، اب یہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں کونسی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا انتخاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دو سال ہیں کہ ہم نے ای وی ایم خود بنانی ہے یا پھر امپورٹ کرنی ہے، یہ قومی ذمہ داری ہے، توقع ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے گا اور اپنی استعداد کا بھی جائزہ لے گا، حزب اختلاف اپنی تجاویز اور وضاحت الیکشن کمیشن سے لے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف پرانے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے جو ان کو فائدہ مند لگتا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے قانون سازی کر لی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مشین بنا دی ہے، الیکشن کمیشن عملی اقدامات کرے اور آئندہ ضمنی انتخابات میں بھی اس کو استعمال کرے