اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فراش ٹاؤن میں 4400 اپارٹمنٹس زیر تعمیر ہیں، حکومت نے ملک میں عام آدمی کو گھرکی سہولت فراہم کرنے کے لئے رہائشی منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے، اس وقت ایک لاکھ گھر زیر تعمیر ہیں، بینکوں نے گھروں کی تعمیر کے لئے 24 ارب روپے کے قرضے دیئے ہیں،ماضی میں کسی حکومت نے عام آدمی کو گھر کی سہولت فراہم کرنے کا نہیں سوچا، ہمیں انفراسٹرکچر بنانے میں 2 سال لگ گئے، اب بہت تیزی سے اس منصوبے پر کام ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو فراش ٹائون میں 4400 اپارٹمنٹس کی تعمیر کے منصوبے کے معائنے کے دوران کیا ، اس منصوبے کا سنگ بنیاد رواں سال اپریل میں رکھا گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نےکم آمدن اور تنخواہ دار طبقے کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کا نہیں سوچا۔ ان کی یہ ترجیح نہیں تھی ،اس لئے صرف پیسے والے لوگ ہی اپنا گھر بنا سکتے تھے۔ عام آدمی کے لئے یہ ایک خواب تھا۔ ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد کم آمدنی والے افراد کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں کا اعلان کیا اور انفراسٹرکچر ڈویلپ کرنے کی کوشش کی کیونکہ ماضی میں انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں تھا۔ بینک عام آدمی کو گھر کی تعمیر کے لئے قرضہ نہیں دیتے تھے۔ ہمیں 2 سال قانون سازی میں لگ گئے۔ اب بینکوں نے عام آدمی کو گھر کی تعمیر کے لئے قرضے دینے شروع کر دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصداور مغربی ممال میں 80 فیصد گھر بینکو ں سے قرض لے کر تعمیر کئے جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں 2018 میں یہ شرح صرف 0.2 فیصد تھی۔ حکومت نے کم آمدنی والے طبقات کے لئے بینکوں سے قرضے شروع کرائے۔ ہائوسنگ کےشعبہ کو مراعات دیں۔ ون ونڈو آپریشن شروع کیا تاکہ عام آدمی کو آسانی سے قرضہ مل سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ہائوسنگ کےشعبہ میں سبسڈیز کا اعلان کیا۔ پانچ مرلے کے گھر کے لئے پہلے پانچ سال 5 فیصدسبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ، نچلےطبقے کو سروس چارج پر 2 فیصد سبسڈی دی اور پہلے پانچ سال 10 مرلے کے گھر کے لئے 7 فیصد مارک اپ کااعلان کیا ۔ حکومت نے 35 ارب روپے سبسڈیز کےلئے رکھے۔ پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے 3 لاکھ فی گھر سبسڈی کے لئے رکھا۔











