گلگت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 19ویں کینسر ہسپتال کا افتتاح ،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی  اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب  میں شرکت

34

 

 

گلگت،14جنوری  (اے پی پی):پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) نے جمعہ کو یہاں گلگت انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (جی آئی این اوآر) کے نام سے اپنے 19ویں اٹامک انرجی کینسر ہسپتال (اے ای سی ایچ) کا باقاعدہ افتتاح کیا ہے۔افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی  اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہاکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو بین الاقوامی جوہری توانائی کے تصور کردہ ایٹم فار پیس پروگرام پر ملک میں عملدرآمد کا اہم کردار سونپا گیا ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی  ایجنسی (آئی اے ای اے) اور کمیشن کئی دہائیوں سے جوہری توانائی، زراعت اور بائیو ٹیکنالوجی اور صنعتی استعمال کے شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے قابل ستائش قومی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم پی اے ای سی کی جانب سے صحت کے شعبے میں خاص طور پر اے ای سی ایچ کے ذریعے کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے سب سے قابل تعریف کردار کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی  اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر  نے کہا کہ مجھے جی آئی این اوآرکے نام سے پی اے ای سی کے زیر انتظام 19ویں کینسر ہسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جو یقیناً گلگت بلتستان کی تقریباً 1.5 ملین آبادی کو بڑا ریلیف فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صحت سہولت پروگرام کے نام سے ملک گیر فلیگ شپ اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو معیاری صحت کی دیکھ بھال اور انشورنس فراہم کرنا ہے اور جی آئی این اوآر میں اسے نافذ کرکے حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کینسر کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے  کہاکہ پی اے ای سی بھی آزاد کشمیر میں کینسر کے اگلے ہسپتال کی منصوبہ بندی کے لیے تعریف کا مستحق ہے۔قبل ازیں ممبر سائنس پی اے ای سی ڈاکٹر مسعود اقبال نے وفاقی وزیر اور حکومت خصوصاً پلاننگ کمیشن کا کمیشن کی طرف سے شروع کیے گئے صحت کے شعبے کے منصوبوں کی مسلسل سرپرستی پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پی اے ای سی کے زیر انتظام کینسر ہسپتالوں کے موجودہ صف میں جی آئی این اوآرکا اضافہ بہت مفید ثابت ہو گا۔  یہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک عظیم نعمت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے جی آئی این اوآراور یہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پی اے ای سی کے 20ویں کینسر ہسپتال کی تعمیر جلد شروع کی جائے گی۔

اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین پی اے ای سی محمد نعیم (HI,SI) نے کینسر کے مریضوں کی مشکلات کو کم کرنے میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں قائم اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان ہسپتالوں کے میڈیکل پریکٹیشنرز اور تکنیکی عملے کی کینسر کے خلاف جنگ میں بے لوث لگن کو سراہا۔پورے ملک میں پی اے ای سی کے زیر انتظام کینسر ہسپتال کئی سالوں سے کینسر سے متعلق آگاہی اور بچاؤ کی مہم چلا رہے ہیں۔محمد نعیم نے مزید کہا کہ صدر پاکستان کے وژن اور ہدایات کے مطابق ان ہسپتالوں نے سال 2021 میں اس مرض کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ایک مربوط مہم کا کامیاب اہتمام کیا اور یہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے گلگت میں کینسر ہسپتال کے قیام پر وفاقی حکومت اور پی اے ای سی کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ہسپتال گلگت بلتستان اور گردونواح کے لوگوں کو بڑا ریلیف فراہم کرے گا۔مہمان خصوصی کے علاوہ، تقریب میں وڈیو لنک پر ڈائریکٹر جنرل، سٹریٹجک پلانز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی منج، HI (M) اور چئیرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم نے بھی شرکت کی جبکہ   افتتاحی تقریب میں گلگت بلتستان کے معززین اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ممبر سائنس نے آخر میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو شیلڈ بھی دی۔

سورس:وی این ایس ، گلگت