حکومتی ادارے ذمہ داری سے کام کر رہے ہیں تاہم اصلاحات کی ضرورت ہے، شوکت ترین

29

اسلام آباد۔1فروری  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات شوکت ترین نے منگل کو یہاں ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر کرنسی ڈیکلیئریشن کے نئے خودکار نظام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی ادارے ذمہ داری سے کام کر رہے ہیں تاہم اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت آٹومیشن پر یقین رکھتی ہے اور اس حوالہ سے پیشرفت جاری ہے، انڈر اور اوور انوائسنگ سمیت منصفانہ ٹیکس وصولیوں میں آٹومیشن کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

  وزیر خزانہ شوکت ترین نے بٹن دبا کر خودکار نظام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آٹومیشن پر یقین رکھتی ہے اور اس حوالہ سے مسلسل پیشرفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں لوگ گنجائش کے مطابق ٹیکس نہیں دے رہے، ہم آٹومیشن کے ذریعے ایسے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو فعال اور مؤثر بنانا اور زرمبادلہ ہمارے لئے کلیدی اہمیت کے شعبے ہیں اور اس میں ہم نے آگے جانا ہے، ماضی میں فارن ایکسچینج کی کوئی ڈاکومینٹیشن نہیں تھی، اس وقت بھی انڈر اور اوور انوائسنگ ہو رہی ہے جس کے تدارک کیلئے ایف آئی اے اچھا کام کر رہی ہے، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس نظام کو ہم آٹومیشن کے ذریعے ٹھیک کر سکتے ہیں، کسٹم میں سنگل ونڈو آ رہا ہے جبکہ لینز کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تیار درآمدی مال میں انڈر اور اوور انوائسنگ کا سلسلہ جاری ہے، لوگ چین سے براہ راست سامان منگواتے ہیں تاہم کاغذات میں دبئی لکھا جاتا ہے، کئی عشروں سے ہم یہ تماشا دیکھتے رہے ہیں لیکن اب زیادہ دیر تک ایسے عناصر چھپ نہیں سکیں گے۔