صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں پنجاب تھیلیسیمیاء اینڈادرجنیٹک ڈس آرڈرپریونشن اینڈریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تھیلیسیمیاء اور تشخیص کے موضوع پر ورکشاپ میں شرکت

8

لاہور،09 فروری ( اے پی پی ):صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں پنجاب تھیلیسیمیاء اینڈادرجنیٹک ڈس آرڈرپریونشن اینڈریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تھیلیسیمیاء اور تشخیص کے موضوع پر ورکشاپ میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔آگاہی ورکشاپ میں وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان،ڈی جی پنجاب تھیلیسمیاء اینڈادرجنیٹک ڈس آرڈرپریونشن اینڈریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹرحسین جعفری،ایم ایس گنگارام ہسپتال ڈاکٹراطہر،ڈاکٹریاسمین احسان،پروفیسرجاویدچوہدری اور تھیلیسمیاء کی مختلف رفاعی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔        ڈی جی پنجاب تھیلیسمیاء اینڈادرجنیٹک ڈس آرڈرپریونشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹرحسین جعفری نے آغازمیں آگاہی ورکشاپ کے اغراض و مقاصدبیان کئے۔صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے آگاہی ورکشاپ کے دوران مختلف رفاعی تنظیموں کے نمائندگان میں اعزازی شیلڈزبھی تقسیم کیں۔اس موقع پرصوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنےاظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ         حکومت تھیلسیمیاء کے مریضوں کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کررہی ہے         شادی سے قبل تھیلیسیمیاء کے تشخیصی ٹیسٹ کا قانون جلد منظورہوجائے گا پنجاب میں تھیلسیمیاء سمیت دیگرموروثی بیماریوں کے علاج کی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں          پنجاب میں تھیلسیمیاء کی تشخیص کا جامع پروگرام چلایاجارہاہے         پنجاب کے تمام اضلاع میں تھیلیسیماء کے تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولت دستیاب ہے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا کہ    پاکستان میں تھیلیسمیاء کی آگاہی کیلئے 1994میں کام شروع کیاپاکستان میں تھیلیسیماء کی تشخیص قبل ازپیدائش کا پہلا ٹیسٹ1994میں کیاگیاتھا      ہم پہلی بار تھیلسیمیاء کی معاشرہ میں آگاہی پھیلانے کیلئے بیس کیمپ کے ٹو پر گئے تھیلیسمیاء کے دوکیرئیرزکی آپس میں شادی نہیں ہوی چاہئےعوام میں آگاہی پھیلانابھی عبادت کے مترادف ہے     قبل ازپیدائش تشخیص ہرانسان کا بنیادی حق ہے2001سے2008تک عوام میں تھیلسیمیاء بارے آگاہی پھیلانے کیلئے جدوجہدکی    پاکستان میں تھیلیسمیاء کی تشخیص اور علاج کیلئے1994میں خواب دیکھاتھا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹریاسمین احسان اور ڈاکٹرحسین جعفری نے معاشرہ میں تھیلیسیمیاء بارے آگاہی پھیلانے میں بنیادی کرداراداکیا       آج ہم سب کا اکٹھے بیٹھ کر تھیلیسیمیاء بارے سوچنا سودمندہے   پاکستان تھیلسیمیاء فیڈریشن ملک میں تھیلیسمیاء کے مریضوں کاڈیٹااکھٹاکرنے والی پہلی تنظیم ہے     پاکستان میں 1994میں تھیلیسمیاء کے مریضوں کی اوسط عمر12سے16سال تھی تشخیص ہمیشہ علاج سے سستی اور بہترہوتی ہے  بہت سارے بیرون ممالک میں تھیلیسمیاء کا بچہ پیدانہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ   یہاں سے جانے والے ہرانسان کی معاشرہ میں تھیلسیمیاء بارے آگاہی پھیلانا بنیادی ذمہ داری بن گئی ہے ۔