الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے مزید31 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان طورخم بارڈر پر افغان حکام کےحوالے کردیا

29

پشاور، 16 فروری(اے پی پی):افغانستان میں شدید موسمی حالات سے بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال کے پیش نظرالخدمت فاونڈیشن پاکستان نے پاک افغان تعاون فورم کے تحت امدادی سامان سے لدے مزید 31ٹرک پاک افغان سرحد طورخم پر افغان حکام کے حوالے کردئیےجن میں چار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے فوڈ اور ونٹر پیکجز سمیت دیگر امدادی سامان شامل ہے۔یہ الخدمت فاونڈیشن کی پانچویں امدادی کھیپ تھی اوراب تک الخدمت فاونڈیشن پاکستان 103ٹرکوں کے ذریعے 800ٹن سے زائد امدادی سامان افغان حکام کے حوالےکر چکی ہے جس کی مالیت 21 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔
افغانستان کے صوبے پکتیکا،نگرہار،کابل،ہلمند،قندہار اورشمالی افغانستان کے دیگر صوبوں میں عوام کی بڑی تعداد اس وقت بھی شدید موسمی حالات سے متاثرہو کر نقل مکانی پر مجبور ہے۔افغانستان میں  تشویشناک صورتحال کے حوالے سے عالمی ادارہ خوراک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغانستان میں درپیش غذائی قلت پر بروقت قابو نہیں پایا گیا تو اس کےنتیجے میں افغانستان میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے- اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے منگل کے روز الخدمت فاونڈیشن خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری محمد شاکرصدیقی ،الخدمت فاونڈیشن شمالی پنجاب کے صدر رضوان احمد منیجر ڈیزاسٹر منیجمنٹ محمد وسیم اور صوبائی میڈیا منیجرنورالواحدجدون نے پاک افغان سر حد طور خم پرالخدمت فاونڈیشن پاکستان کی جانب سے افغان متاثرین کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پرمزید 31 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کی پانچویں کھیپ امارت اسلامی افغانستان کے انچارج  برائے MORR کے رئیس محمد علی اورمیاں حفیظ اللہ قمری صاحب افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی 4 صوبوں کے انچارج اور دیگراعلیٰ حکام کے حوالے کی۔ جس میں خشک راشن پرمشتمل فوڈ اور ونٹر پیکج سمیت بچوں اور خواتین کے لئے گرم ملبوسات شامل تھے ۔
امدادی سامان حوالگی کے موقع پرامارت اسلامی افغانستان کے اعلیٰ حکام نے آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں بے سروسامانی کی حالت میں شدید موسمی حالات کے پیش نظر نقل مکانی پر مجبور لاکھوں افغان متاثرین کی بحالی میں تعاون پرپاکستانی عوام ،الخدمت فاونڈیشن اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا- اس موقع پرالخدمت فاونڈیشن پاکستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری محمد شاکر صدیقی اور رضوان احمد  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک افغان تعاون فورم کےذریعے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں متاثرین اور مہاجرین کی ہر ممکن امداد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔