چترال،21فروری (اے پی پی ): کیلاش قبیلے کی معمر خاتون شیر کانی 92 سال کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں، جنہیں پورے رسومات کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ہے،آنجہانی کو کیلاش ثقافت کے مطابق پورے مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد دوسرے دن سپرد خاک کیا گیا۔ انکی جسد خاکی کو کیلاش قبیلے کے مذہبی عبادت گاہ جستکان میں رکھا گیا تھا ، جس کے سرہانے تعظیم کے طور پر سو، پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ بھی رکھے گئے تھے۔
کیلاش قبیلے کے رسم کے مطابق کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جنہیں مقامی زبان میں قاضی کہلاتے ہیں وہ باری باری آکر میت کے سرہانے یا پیروں کی جانب کھڑے ہوکر ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مرد کی فوتگی پر تین دن تک مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں جن میں ڈھولک بجاکر خواتین میت کے گیت گاتی ہیں ، مخصوص رقص پیش کرتی ہیں اور مرد بھی نرالے انداز سے ڈھولک کی تھاپ پر روایتی رقص پیش کرتے ہیں اور میت کو دفناتے وقت ہوائی فائرنگ بھی کی جاتی ہے جبکہ کسی خاتون کی وفات پر ایک سے دو دن تک رسمیں ادا کی جاتی ہیں، مگر خاتون میت کو دفنانے کے وقت ہوائی فائرنگ نہیں کی جاتی اور اکثر ڈھولک بھی نہیں بجا یا جاتا۔
آنجہانی شیرکانی کی وفات کی رسمیں دون دن تک کی گئیں، جس میں چالیس بکرے، ایک بیل اور دو بچھڑے بھی زبح کئے گئے۔ کیلاش لوگ ان جانوروں کو مسلمانوں سے ذبح کراتے ہیں تاکہ میت کیلئے کئے جانے والے صدقے کو وادی میں رہنے والے کیلاش اور مسلمان دونوں کھا سکیں۔
شیر کانی کی موت پر وادی بریر اور وادی رمبور سے بھی کثیر تعداد میں کیلاش قبیلے کے لوگ آئے تھے۔ رات کے وقت انکی پنیر،لسی اور چپاتی سے تواضع کرائی گئی جبکہ دن کے وقت جب میت کو دفنایا گیا تو مہمانوں کو کھانا دیا گیا جس میں گوشت، دیسی گھی، روٹی اور روایتی طعام جوش بھی شامل تھا۔(جوش ایک خاص طعام ہے جو گوشت کے شوربے میں آٹے کو خوب پکاکر تیار کیا جاتا ہے)۔ اس فوتگی پر تقریباً تین کنستر دیسی گھی اور پنیر بھی مہمانوں کو پیش کیا گیا،کھانے کے بعد خاص طور پر مہمانوں کو انگور سے بنی ہوئی شراب جسے دروچ اوغ کہا جاتا ہے وہ بھی پیش کی گئی۔
میت کے دن سے تعزیت کیلئے آنے والے مہمانوں کو چائے کے ساتھ بسکٹ اور بیکر بھی پیش کیا جاتا رہا،جس وقت میت کو قبرستان لے جایا گیا تو اس وقت جستکان میں موجود تمام کیلاش خواتین نے باہر جاکر بہتے ندی کی پانی سے ہاتھ دھوئے اور مردحضرات نے جب آنجہانی شیرکانی کو دفنایا اور ساتھ ہی اس کی استعمال کی چیزیں بھی قبر میں رکھی گئیں ، جس چارپائی میں میت قبرستان تک لائی گئی، اس چارپائی کو بھی قبر کے اوپر الٹا رکھا گیا جبکہ مردوں نے بھی میت دفنانے کے بعد نہر میں ہاتھ دھوئے اور پھر کھانے میں شریک ہوئے۔
فوتگی پر کی جانے والی رسموں کے حوالے سے لوک رحمت کیلاش نے کہا کہ ہم اس عقیدے سے یہ جانور ذبح کرتے ہیں تاکہ میت کے لئے صدقہ ہو اور اس میں پرندوں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ اس کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں مگر کیلاش لوگ ان کو مرنے کے وقت بھی اسی خوشی سے رحصت کرتے ہیں اور اس وقت بھی ڈھولک بجاکر مخصوص رقص پیش کر کے گیت گئے جاتے ہیں۔
آنجہانی شیرکانی کی موت پر کثیر تعداد میں تینوں وادیوں سے مہمان تعزیت کیلئے آئے تھے اور یہ سلسلہ مزید کئی دنوں تک جاری رہے گا۔











