اسلام آباد،24فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کوحکومت میں آتے ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سمیت کورونا و افغان صورتحال کا سامنا رہا، مستحکم ترقی کیلئے صنعت و برآمدات سمیت سیونگ ریٹ اور ریونیو کو بڑھانا پڑے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انڈسٹریل اینڈ ایکسپورٹ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 60 کی دہائی میں ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت تھی ،جس کی وجہ مضبوط منصوبہ بندی تھی ،وقت کے ساتھ آج پاکستان ایشیا کے پہلے بیس ملکوں میں بھی نہیں رہا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے اپنا آغاز معیشت کو بحال کرنے کی کوششوں سے کیا،بڑی محنت سےمعیشت کی سمت درست کی گئی اس سال معاشی نمع کی شرح ساڑھے چار سے پانچ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہاکہ ہم سیونگ ریٹ کو بہتر کرنے پر توجہ دے رہے ہیں ،جس کیلئے ہمیں ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکومتی آمدن بڑھانی ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے ٹیکس ٹو جی ڈی ریشو کو موجودہ10فیصد سے 20 فیصد پر لیجانا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں آئی ٹی اور سیاحت کے شعبوں پر سرمایہ کاری کرنی ہے ،ہمیں اپنی ایکسپورٹ حکمت عملی کو بھی بہتر بنانا ہے،ہمیں اپنی صنعتی اور زرعی پیدوار بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔
شوکت ترین نے کہاکہ ہمیں غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے فصلوں کی پیداوار بڑھانی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ،اقتصادی ترقی کے ثمرات نچلے طبقے تک پہنچانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کامیاب پاکستان پروگرام ، کامیاب جوان، احساس ، ہیلتھ کارڈ جیسے اقدامات کئے ہیں ،عام آدمی کے سماجی تحفظ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے،ہمیں اقتصادی ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا۔











