انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ میں ، چین کی حکومت کے تعاون سے سی پیک کے ذریعے چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوئی ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کا کراچی میں تقریب سے خطاب

10

کراچی۔14مارچ  (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے  اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اٹھائے گئے اقدامات ،منصوبوں اور دونوں حکومتوں کے درمیان بڑھے ہوئے تعاون سے نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں،وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت حکومت علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، 21 مارچ 2022 سے پاکستانی کارگو ٹرک افغانستان کے راستے ازبکستان، قزاخستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی برآمدی سامان لے جانا شروع کر دیں گے اس سے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی، پاکستان میں معاشی اور سماجی محاذوں پر نمایاں بہتری آئی  ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں سی پیک کو آپریشن بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس  میں وزیر مملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد اظفر احسن، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور، سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ فرینہ مظہر، کراچی میں چین کے قونصل جنرل لی بیجیان ،چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز حسین شاہ اور دیگر نے بھی شرکت کی۔  اس کے علاوہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں اور سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور سندھ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب تجارتی معیشت سے مینوفیکچرنگ اکانومی کی طرف بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے ریکارڈ برآمدات کیں اور امید ہے کہ اس سال مزید برآمدات ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی اور مضبوطی چند دنوں کا کام نہیں تھا بلکہ یہ ایک طویل سفر تھا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد اظفر احسن نے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بی او آئی  کے اقدامات کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔بی او آئی دو طرفہ سرمایہ کاری کے نظام اور سازگار کاروباری ماحول کو فروغ دینے کے اہداف پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے  اصلاحات کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کے دوران دونوں ممالک نے صنعتی تعاون کے فریم ورک کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاک چین بزنس فورم بھی تشکیل دیا گیا تھا۔