گلگت،17 مارچ (اے پی پی): وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجحی صحت کا شعبہ ہے۔ صحت کے شعبے کی بہتری،ڈاکٹروں کی سپیشلا ئزیشن اور ڈاکٹروں کو بہتر پیکیج دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔
ہیلتھ سٹیئرنگ کمیٹی میں کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بڑے ہسپتالوں میں ہاؤس جاب اور پوسٹ گریجویٹ شروع کرنے کیلئے سی پی ایس پی سے ایک ہفتے میں ایم او یو کیا جائے گا۔ سی پی ایس پی کے چیک لسٹ کے مطابق ہاؤس جاب شروع کرنے کیلئے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ مخصوص شعبوں میں درکار ایف سی پی ایس مکمل کرنے والے ڈاکٹرز کو گریڈ 18میں ملازمت یقینی بنانے اور بہتر سہولیات کیلئے پالیسی تیار کرکے منظوری کیلئے کابینہ اجلاس میں پیش کریں، صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے ضروری قانون سازی کی گئی اور وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے آخر تک تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے بعد گلگت، سکردو اور چلاس کے بڑے ہسپتالوں میں نیرو سمیت جدید علاج کی سہولیات یقینی بنائیں گے تاکہ گلگت بلتستان سے مریضوں کو علاج و معالجے کیلئے دیگر صوبوں میں جانے کی ضرورت نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ تحریک انصاف کی حکومت کا انقلابی اقدام ہے،صحت سہولت کارڈ کے ذریعے ہسپتالوں کے وسائل میں اضافہ ہوگا اور مالی طور پر مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں صوبے کے ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے ایمرجنسی اور او پی ڈی مکمل فری کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں کے آٹومیشن کے عمل کو تیز کیا جائے۔ سیکریٹری صحت اور سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے 6ماہ کے مدت میں ہسپتالوں کی آٹومیشن کے عمل کو مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات کی سپلائی کے عمل کو تیز کریں، آئندہ مالی سال کیلئے ادویات کی خریداری بروقت یقینی بنانے کیلئے جون سے قبل کاغذی کارروائی کو حتمی شکل دی جائے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں سٹاف کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنانے کیلئے تمام ہسپتالوں میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام نصب کیا جائے۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنانے کیلئے سیکریٹری صحت 20 اپریل 2022تک سی ٹی ایس پی کے تحت ٹیکنیکل سٹاف کی بھرتیوں کے عمل کو مکمل کریں۔
اس موقع پر صوبائی سیکریٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی دلچسپی کی وجہ سے 1354آسامیاں صحت کے شعبے کیلئے تخلیق کی گئی ہے جن میں نیرو سرجن کی 4، Peadiatric Surgeon کی 4، Psychiatrist کی 11، کریٹیکل کریئر سپیشلسٹ کی 11، Nephrologist کی 7، Urologist کی 4، میڈیکل آفیسرز کی 120، ڈینٹل آفیسرزکی 11، کلینیکل سائیکولجسٹ کی 10، پیتھیالوجسٹ کی 10، جنرل نرسز کی 201، لیڈی ہیلتھ وزٹرز کی 50، آئی سی یو ٹیکنیشن کی 20، سرجیکل ٹیکنیشن کی 11، میڈیکل ٹیکنیشن کی 11، الیکٹرو میڈیکل ٹیکنیشن کی 10 اور آیا کی 25آسامیوں کی ریگولر سائیڈ پر کیریشن دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پی سی فورزڈویلپمنٹ اور پروگرام کے تحت 832مختلف آسامیوں کی تخلیق (کیریشن)دی گئی ہے جس سے ڈاکٹروں، جنرل سٹاف اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف کی کمی دور ہوگی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کو فعال بنایا جاسکے گا۔
صوبائی سیکریٹری صحت نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے ڈاکٹروں کو خصوصی مراعات دیئے ہیں۔ ایس پی ایس کے تحت سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تنخواہیں 3لاکھ50 ہزار کردی گئی ہے جبکہ ٹریننگ مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ 3 لاکھ کردی گئی ہے۔ صوبے میں خدمات انجام دینے والے ریگولر ڈاکٹروں کی بھی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت نے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے خصوصی اصلاحات کئے ہیں جس کے تحت 28کنٹریکٹ ڈاکٹرز، 61 ریگولر ڈاکٹرز اور 76پرائیویٹ ڈاکٹرز کو ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس (Anesthesia) کیلئے ملک کے بڑے ہسپتالوں میں بھجوایا گیا ہے جن کے تمام اخراجات صوبائی حکومت ادا کررہی ہے۔گلگت، چلاس اور سکردو میں ٹراما سنٹرز تعمیر کئے گئے ہیں۔ صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جارہاہے۔











