اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے ملائیشیا کی وزیر برائے پلانٹیشن انڈسٹریز اینڈ کموڈیٹیز مس زورائیدہ بنت قمر الدین نے وفد کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت گزرنے ساتھ فروغ پا رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح وفود کے تبادلوں سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوا ہے۔پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت ملے گی اور دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ اور معیشت کو نمایاں فروغ میسر ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان، ملا ئیشیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں باہمی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اوردونوں ممالک نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پاکستان اور ملائیشیا، اپنی ملحقہ مارکیٹوں تک رسائی کی سہولت فراہم کرکے ایک دوسرے کو اسٹریٹجک اور اقتصادی فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔تعلیم، دفاعی مصنوعات، تجارت اور سرمایہ کاری، الیکٹرانکس اور آئی ٹی انڈسٹری، حلال فوڈ، آئل اینڈ گیس، قابل تجدید توانائی، سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے اور دنوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ پاکستان”آسیان“ کا ڈائیلاگ پارٹنر بننے کیلئے ملائیشیا کی جانب سے حمایت کا منتظر ہے۔محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ آئی پی یو میں پاکستان کی شمولیت اور ”آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی“ میں مبصر کی حیثیت ملنے کے حوالے سے ملائیشیاکی معاونت اور حمایت کو سراہتے ہیں۔ پاکستان میں تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان میں ماہی گیری، ٹیکسٹائل، فارماسوٹیکل،آلات جراہی، پھل و سبزی، ڈیری مصنوعات کے حصول کیلئے ملایشیاء، پاکستان سے ان اشیاء کی درآمدات بڑھا کر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر مستقبل قریب میں دنیا کا بہترین معاشی حب ثابت ہوگا اور سی پیک راہداری منصوبہ جات سے مشرق وسطیٰ ممالک تک رسائی کی بدولت تجارت، سرمایہ کاری کو نمایاں فروغ ملے گا۔ملائیشیا کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کرنا چاہئے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان، سیاحت کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات اٹھا رہا ہے اورپاکستان سیاحت میں ملائیشیا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے میں ملائیشیا کی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ پاکستان”ملائیشیا،ٹرولی ایشیا“ تجربے سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا معاشی ترقی کیلئے مفید ثابت ہوگا۔درآمدات اور برآمدات میں توازن لا کر مزید بہتری لائی جا سکتی ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ ان کی عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ ایس ایم ای میں ملائیشیا کی سرمایہ کاری کی پاکستان حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ملائیشین وزیر مس زورائیدہ بنت قمر الدین نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں معیشت کی بہتری کیلئے تجارتی حجم میں اضافہ اورموجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے ملائیشین سرمایہ کار، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔











