پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے کالے قانون کو ختم کر دیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی اسلام آباد میں نیوز کانفرنس

21

اسلام آباد۔19اپریل  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب  نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہےکہ پاکستان میڈیا  ڈویلپمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی جیسے کالے قانون کو ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ  ڈیجیٹل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا کالا قانون اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم کر دیئے گئے ہیں، آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لئے پیکا 2016ء پر نظرثانی کی جائے گی، رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ 2018ء کو پوری قوت سے نافذ کیا جائے گا، جرنلسٹ سیفٹی اینڈ پروٹیکشن ایکٹ پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، اتحادی جماعتیں مل کر تمام مسائل کا حل تلاش کریں گی، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے حکمت عملی لائی جائے گی، میڈیا سے متعلقہ تمام مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے گا، سابقہ حکومت نے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی تاہم موجودہ دور میں اس طرح کا کچھ نہیں ہوگا، سابقہ دور میں صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، ٹی وی پروگرامز بھی بند کرائے گئے، میڈیا حکومت کے احتساب کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، میڈیا تنقید ضرور کرے لیکن یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہئے، تنقید برائے اصلاح کا خیرمقدم کریں گے، انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا، انتقامی سیاست کا کوئی حربہ استعمال نہیں کیا جائے گا تاہم قانون اپنا راستہ ضرور بنائے گا، حکومتی ناکامیوں کا ملبہ صحافیوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داری پر اپنی پارٹی کی مشکور ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی آئی ڈی کے پلیٹ فارم سے ان کی چار سال بعد میڈیا سے ملاقات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری جماعت نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داری سونپی اس پر اپنی جماعت کی مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ریاستی پالیسی میں وزارت اطلاعات کا اہم کردار ہے، پچھلے چار سال کے دوران میڈیا نے سینسر شپ اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کا سامنا کیا۔