اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے عمران خان کے بیانات متضاد ہیں ۔۔
شازیہ مری نے کہا کہ ملک میں پچھلی نااہل حکومت کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ 34 ملین گھرانوں کا سروے ہوا ہے جو ڈیٹا قائم ہوا۔جب کہ 7 ملین لوگ بینیفشریز ہیں۔لیکن مجھے تشویش ہوئی کہ کچھ فلٹرز لگائے گے جن کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو نکالا گیا۔اس طرح کے کیسز کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔دیگر پروگرام بھی ہیں جیسے کفالت پروگرام ہے جو اب بےنظیر کفالت پروگرام ہوگا،بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام ہوگا بے نظیر نشوونما پروگرام ہوگا کیونکہ یہ سب پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا بیس پہ ہیں۔ان پروگراموں کے ساتھ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام رکھنا لازم ہے۔کیونکہ اب عوام سے جھوٹ نہیں بولا جاسکتا کہ یہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہے کیونکہ جو قانون بنا ہے وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے۔ یہ تمام پروگرام اسی ڈیٹا بیس پر بنائے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 16 زونل دفاتر ہیں۔جن کا میں دورہ کروں گی۔اور ان کو مزید فعال بنایا جائے گا۔ وہاں کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔وہاں کی عوام سے بھی رائے لیں گے۔تاکہ اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جاسکے اور پروگرام کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔اس کے علاوہ تحصیل کی سطح پر بھی جو نادرا کے آفس ہیں وہاں ونڈوز بنائی گئی ہیں۔وہاں پر لوگوں کو اپیل کا آپشن بھی دیں گے تاکہ وہ اپنی پریشانی اور مشکلات ہمیں بتاسکیں۔











